چیف منسٹر ریونت ریڈی کی گورنر جشنودیو ورما سے ملاقات

   

کابینہ میں امکانی توسیع پر بات چیت، 3 اپریل کو 4 وزراءکی شمولیت کی قیاس آرائیاں
حیدرآباد 30 مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج راج بھون پہونچ کر گورنر جشنودیو ورما سے ملاقات کی۔ رویندرا بھارتی میں اُگادی کی تقریب میں شرکت کے فوری بعد چیف منسٹر راج بھون روانہ ہوئے اور گورنر کو اُگادی کی مبارکباد پیش کی۔ گورنر سے ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ سے زائد تک جاری رہی جس میں ریاستی کابینہ کی توسیع کے مسئلہ پر بات چیت کی گئی۔ چیف منسٹر کے ہمراہ وزیر جنگلات کونڈہ سریکھا، رکن راجیہ سبھا انیل کمار یادو، چیف منسٹر کے مشیر وی نریندر ریڈی اور صدر ضلع کانگریس خیریت آباد روہن ریڈی موجود تھے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق خیرسگالی ملاقات کے بعد چیف منسٹر اور گورنر نے تقریباً ایک گھنٹہ تک تنہائی میں بات چیت کی جس میں ریاست کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے ریاستی کابینہ میں امکانی توسیع سے واقف کرایا۔ واضح رہے کہ کانگریس ہائی کمان نے تلنگانہ کابینہ میں توسیع کی منظوری دی ہے اور 3 اپریل کو تقریب حلف برداری کا امکان ہے۔ چیف منسٹر نے توسیع کے سلسلہ میں امکانی وزراء کے ناموں سے گورنر کو واقف کرایا تاہم ناموں کی فہرست تقریب حلف برداری سے ایک دن قبل سرکاری طور پر روانہ کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے راج بھون کو تقریب حلف برداری کی تیاریوں کا مشورہ دیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتہ کانگریس ہائی کمان نے چیف منسٹر ریونت ریڈی، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار اور وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی کو نئی دہلی طلب کیا تھا جہاں ملکارجن کھرگے، راہول گاندھی، کے سی وینو گوپال اور میناکشی نٹراجن نے کابینہ میں امکانی توسیع پر بات چیت کی اور 4 وزراء کی شمولیت کو منظوری دی ہے۔ تلنگانہ کابینہ میں 6 وزارتی نشستیں مخلوعہ ہیں جبکہ حکومت کی تشکیل کے تقریباً دیڑھ سال کے بعد پہلی توسیع میں 4 وزارتی نشستوں کو پُر کئے جانے کا امکان ہے۔ چیف منسٹر کی گورنر سے ملاقات کے بعد کابینہ میں توسیع کی قیاس آرائیاں شدت اختیار کرچکی ہیں۔ کابینہ میں شمولیت کے کئی دعویدار ہائی کمان سے ملاقات کے لئے نئی دہلی روانہ ہوچکے ہیں۔ کابینہ میں اضلاع نظام آباد، عادل آباد، رنگاریڈی اور حیدرآباد کی نمائندگی نہیں ہے لہذا مذکورہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے پیروی شروع کردی ہے۔ عادل آباد ضلع سے آنجہانی جی وینکٹ سوامی کے فرزند جی ویویک وینکٹ سوامی کی شمولیت یقینی بتائی جارہی ہے۔ وہ چینور اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ریڈی طبقہ سے کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی کی شمولیت کو یقینی بتایا جارہا ہے۔ ریڈی طبقہ کے اور بھی ارکان اسمبلی وزارت کی دوڑ میں ہیں جن میں سدرشن ریڈی اور مال ریڈی رنگاریڈی شامل ہیں۔ جن طبقات کی جانب سے نمائندگی کے لئے ہائی کمان پر دباؤ بنایا جارہا ہے اُن میں مادیگا، لمباڑہ اور منور کاپو طبقات شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہائی کمان پر بڑھتے دباؤ کے پیش نظر امکان ہے کہ تمام 6 وزارتی نشستوں کو پُر کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اِس پر چیف منسٹر ریونت ریڈی سے مشاورت ناگزیر ہے۔ کابینہ میں بی سی، ایس ٹی، مسلم اقلیت اور ریڈی طبقہ کی نمائندگی کیلئے قائدین اور عوام کی جانب سے ہائی کمان پر زبردست دباؤ ہے۔1