بائیکاٹ کے مطالبہ کے دوران مقام کا استعمال کرنے کی حکمت عملی
حیدرآباد ۔ 23 اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر کی دعوت افطار کا بائیکاٹ کرنے کے پرزور مطالبہ کے دوران ایک اور نعرہ بلند ہوگیا ہے جس میں افطار پارٹی کا بائیکاٹ نہیں بلکہ مقام کا استعمال کیا جائے گا۔ ریاست کے سیاسی حالات اور اپوزیشن کے بڑھتے سیاسی تیور سے پریشان چندرشیکھر کیلئے اب عوامی مخالفت کا بھی کھل کر سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ چیف منسٹر کی وعدہ خلافی کے سبب افطار پارٹی کا بائیکاٹ کرنے کا ایک گروپ مطالبہ کررہا ہے تو وہیں دوسری طرف افطار پارٹی کو وعدہ کی یاد دہانی کا موقع تصور کیا جارہا ہے۔ بجٹ کا عدم خرچ مائناریٹی فینانس کارپوریشن کا عملاً ٹھپ ہوجانا۔ 2 سال سے حج نہیں ہوا اور یہ رقم بھی سرکاری خزانے میں واپس چلی گئی ان مسائل پر چند ایک افراد نے تو کاغذنگر کی تاریخ کو دہرانے کا فیصلہ کرلیا ہے جہاں ایک نوجوان کی 12 فیصد مسلم تحفظات کو وعدہ دہائی چیف منسٹر کیلئے تلخ تجربات کا سبب بن رہی تھی۔ چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں اور تیقنات سے مسلم سماج بدظن ہوگیا ہے۔ سماجی، ملی اور مذہبی تنظیموں سے وابستہ مسلم قائدین کا ماننا ہیکہ مسلمانوں کو تلنگانہ کی تاریخ میں صرف وعدوں سے کام چلانا پڑا۔ ہمیشہ انہیں کسی نہ کسی وعدہ سے خوش کیا گیا۔ خودروزگار اسکیمات، فلاح و بہبود کے اقدامات اور ترقیاتی پیاکیجس سے اہم تلنگانہ کے مسلمان 12 فیصد مسلم تحفظات چاہتے ہیں اور حکومت سے مسلمانوں کو کسی چیز کی ضرورت اور توقع اور خواہش ہے تو وہ 12 فیصد مسلم تحفظات ہیں جو تمام مرض کیلئے ایک دوا کے مانند ہیں۔ سیاسی اور تعلیم روزگار میں 12 فیصد مسلم تحفظات حاصل ہوجاتے ہیں تو پھر مسلمانوں کو یقینی ترقی ممکن ہوگی۔ اس انتہائی اہم ترین معاملہ پر حکومت کی عدم سنجیدگی بے چینی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے قائدین اور حیدرآباد کو سماجی تنظیموں کے ذمہ داروں نے سی ایم کی افطار پارٹی میں شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن وعدہ کو یاد دلانے کا حوصلہ بھی ان میں پیدا ہوگیا ہے۔ امکان ہیکہ 29 اپریل کو چیف منسٹر کی جانب سے دعوت افطار کا اہتمام کیا جائے گا اور اس افطار پارٹی کو کامیاب بنانے کی کوششوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس دوران افطار پارٹی کو بائیکاٹ کرنے کے بجائے افطار میں شرکت کو اہمیت دی جارہی ہے جو پارٹی کے حلقوں میں بے چینی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ع