چیف منسٹر کی کارکردگی پر تنقید کرنا مناسب نہیں

   

کانگریس اپنے دور اقتدار کا محاسبہ کرے، ایم ایل سی فاروق حسین کی نمائندہ سیاست سے بات چیت

حیدرآباد۔ 10 مئی (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کی مقبولیت اور کارکردگی سے خائف کانگریس بلاوجہ وزیر اعلیٰ چندرا شیکھر راؤ کی کارکردگی پر تنقید کرنا مناسب نہیں۔ کانگریس اپنے دور اقتدار کا محاسبہ کرے اور دیکھے کہ نومولود ریاست تلنگانہ میں کس قدر ترقیاتی کام انجام دیتے ہوئے ٹی آر ایس نے عوام کے دلوں میں اپنی ایک منفرد جگہ بنائی ہے۔ ان خیالات کا اظہار محمد فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل تلنگانہ نے نمائندہ سیاست جلیل ازہر سے ایک ملاقات میں بتائی۔ محمد فاروق حسین نے کہا کہ ایک خاندان میں دو بھائی الگ ہو جاتے ہیں اور جانبدار کے تقسیم کے بعد دونوں خاندانوں کو سنبھلنے کے لئے کافی وقت درکار ہوتا ہے۔ ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم اور ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بہت ہی کم وقت میں چندرا شیکھر راؤ کی مستحکم قیادت نے ریاست تلنگانہ کی اپنی ایک منفرد شناخت سارے ملک میں بنائی۔ یہاں کی فلاحی اسکیمات کو دوسری ریاستوں میں بھی عمل کرنے حکومتیں غور کررہی ہیں۔ کانگریس اگر تنقید کرتی ہے تو اس کو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے، بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر غیر ضروری حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے حکمراں جماعت کی شاندار کارکردگی کو سیاسی فائدہ کے لئے تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں۔ یاد رہے کہ پریشان ہونے والوں کو کبھی نہ کبھی سکون مل جاتا ہے لیکن پریشان کرنے والے ہمیشہ سکون کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ہم ہر دن سن رہے ہیں لیکن کانگریس یہ سوچ لے کہ انسان کی تربیت کا فرق ہوتا ہے ورنہ جو سن سکتا ہے وہ سنا بھی سکتا ہے۔ محمد فاروق حسین نے مرکزی حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ضرورت کی چیز جن کو ضرورت سے زیادہ ملے تو وہ بھی غیر ضروری ہو جاتی ہے۔ اب تو ہمیں ہی اچھے دنوں کے لئے برے دنوں سے لڑنا پڑے گا۔ سارے ملک میں عوام کو سبز باغ دکھاکر بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتدار حاصل کیا اور غریب عوام کو نظرانداز کرتے ہوئے چند مٹھی بھر سرمایہ داروں کی کٹھ پتلی بن گئی ہے۔ ترقیاتی کام کرنا تو چھوڑیئے سارے ملک میں نفرت کے ماحول کو ہوا دیتے ہوئے مذہب کی بنیاد پر انسانیت کی دھجیاں اڑاتے ہوئے فرقہ پرستی کے زہر کو عام کیا جارہا ہے لیکن ایسے ناپاک عزائم رکھنے والی جماعت کو بہت جلد اس ملک کے ہندو مسلم سبق سکھائیں گے۔ وزیر اعظم کو جس عوام نے ملک کے جلیل القدر عہدہ پر بٹھایا وہ آج ہندوستان کے عوام کی ترقی کی فکر کے بجائے بیرونی ممالک کے دورے کرتے ہوئے کیا تاثر دینا چاہ رہے ہیں یہ بات کسی بھی سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے کو سمجھ میں نہیں آتی۔ آخر میں محمد فاروق حسین نے کہا کہ صدر نشین وقف بورڈ کے عہدہ پر مسیح اللہ خاں اور حج کمیٹی کے صدر نشین کے عہدہ پر ایم اے سلیم کی نامزدگی وزیر اعلیٰ چندرا شیکھرراؤ کی مدیرانہ سیاسی صلاحیت ہے۔ یہ قائدین یقینا اپنی اپنی ذمہ داری کو پوری صلاحیتوں کے ساتھ نبھائیں گے۔ میں ان دو صدور کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے نیک تتمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔ آخر میں فاروق حسین نے کہا کہ ٹی آر ایس نے تاریخ ساز فلاحی خدمات انجام دی ہیں۔ پھر ایک بار عوام ٹی آر ایس کو اس کی شاندار کارکردگی پر اقتدار سونپنیں گے یہ میرا یقین ہے کیونکہ ٹی آر ایس وعدوں پر نہیں عمل پر یقین رکھتی ہے۔