نئی دہلی : راجیہ سبھا میں جمعرات کو آسام گن پریشد کے وریندر کمار ویشیہ نے برہم پتر ندی ندی میں پانی کا بہاو کم ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ چین کو اس کے پانی پرکنٹرول کرنے سے روکاجانا چاہئے ۔ ویشیہ نے وقفہ صفر کے دوران کہاکہ برہم پتر ندی کے وجود اگر ختم ہوگیا تو اس ندی کی قدیم تہذیب بھی ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہاکہ برہم پتر ندی چین سے نکلتی ہے اور وہاں بڑے بڑے باندھ بنائے جارہے ہیں جس سے پانی کا بہاو متاثر ہورہا ہے ۔بیجو جنتادل کے پرسنا آچاریہ نے قبائلی بچوں میں غذائیت کی کمی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ وہ خون کی کمی کے مسئلہ سے نبردآزما ہیں۔ ان کا وزن بھی کم ہے ۔ لڑکیوں میں خون کی کمی ہے جس پر توجہ دیئے جانے کی ضرورت ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی سمپتیا اوئکے نے قبائلی رہنماوں کی سوانح عمری اسکولوں اور کالجوں میں بڑھائے جانے کی مانگ کی اور کہا کہ اس سلسلہ میں ایک کمیٹی قائم کی جانی چاہئے ۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی فوزیہ خان نے کھاپ پنچایتوں کو ختم کرنے کی ضرورت بتاتے ہوئے کہاکہ یہ آئین کے خلاف کام کرتی ہیں۔ ذات کی بنیاد پر یہ پنچایتیں فیصلے کرتی ہیں اور قانون اپنے ہاتھ میں لیتی ہیں۔