چین کی امریکہ کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کی وارننگ

   

بیجنگ : چینی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ چین کی جانب اپنا متنازعہ رویہ تبدیل کرے، کسی بھی جارحیت اور ٹکراؤ کی صورت میں چین کی جانب سے بھی بھرپور جواب دیا جائے گا۔بیجنگ میں پریس کانفرنس کے دوران چینی وزیر خارجہ چن گینگ نے یوکرین جنگ اور روس کے ساتھ قریبی تعلقات پر چینی مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ مثبت اور قوانین کے مطابق مسابقت کرنے کے بجائے چین کو دبانے اور محدود کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین کے بارے میں امریکہ کے خیالات بہت ہی متنازعہ ہیں، امریکہ چین کو اپنا بنیادی حریف اور جیو پولیٹیکل چلینج سمجھتا ہے لیکن اس کی پالیسیاں بتاتی ہیں کہ وہ’اپنی شرٹ کا پہلا بٹن ہی غلط لگا رہے ہیں‘۔دونوں سپر پاورز کے تعلقات گزشتہ کئی سالوں سے کشیدگی کا شکار ہیں تاہم حال ہی میں تائیوان معاملے سمیت یوکرین جنگ اور مبینہ جاسوس غبارے کے بعد اس کشیدگی میں کافی تیزی آگئی ہے۔چین کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی پر امریکہ کا کہنا تھا کہ وہ چین سے کسی قسم کا تنازعہ نہیں چاہتے تاہم تعلقات کیلئے مورچے بنا رہے ہیں، جس کے جواب میں چینی وزیر خارجہ چن گینگ کا کہنا تھا کہ اگر اس کا مطلب یہ ہے چین کو خود پر ہونے والے حملوں کا زبانی اور عملی جواب نہیں دینا چاہیے، تو یہ ناممکن بات ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ اسی راستے پر بڑھتا ہے اور بریک نہیں لگاتا تو پھر کوئی بھی مورچے تعلقات کو ڈی ریل ہونے سے نہیں بچا پائیں گے، جس کے بعد پیدا ہونے والے تنازعے اور ٹکراؤ کی صورت میں برآمد والے بھیانک نتائج کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟۔چینی وزیر خارجہ نے امریکہ اور چین کے درمیان مسابقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ایتھلیٹ اپنے کھیل کا مظاہرہ کرنے کے بجائے صرف دوسرے کو گرانے کی کوشش کرتا رہے گا تو یہ فیئر کامپیٹیشن نہیں ہو سکتا۔اپنی دو گھنٹے طویل پریس کانفرنس میں انہوں نے ’وولف واریئر ڈپلومیسی‘ کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے چینی سفارتکاروں کی جانب سے 2020 کے بعد سے اپنائی گئی ترش سفارتکاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جب گیدڑ اور بھیڑیے آپ کا راستہ روک لیں، اور بھوکے بھیڑیے آپ کو نوچ کھانے کیلئے حملہ آور ہوں تو چینی سفارتکاروں کو اپنے ملک کے تحفظ اور دفاع کیلئے بھیڑیوں سے بھڑ جانا چاہیے۔