ہم کوئی تجارتی یا ٹیکنالوجی جنگ نہیں چاہتے لیکن برآمداتی کنٹرول اور پابندیوں کے جواب میں خاموش بھی نہیں رہیں گے: شی فنگ
واشنگٹن : چین کے واشنگٹن کے سفیر شی فنگ نے کہا ہے کہ ہم، امریکہ کی طرف سے چین کے خاص طور پر چِپ سیکٹر اور اس کی سرمایہ کاریوں کو ہدف بنانے والی قومی سکیورٹی تدابیر کے خلاف جوابی کاروائی کر سکتے ہیں۔شی نے، امریکہ کی ریاست کولوراڈو میں منعقدہ آسپین سکیورٹی فورم سے خطاب میں امریکہ کی طرف سے چین کے لئے اٹھائے گئے اقدامات اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا جائزہ لیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے چِپ سیکٹر سمیت چین پر برآمداتی کنٹرول اور پابندیاں لگائے جانے کے جواب میں چین بھی خاموش نہیں رہے گا۔شی نے کہا ہے کہ ہم اشتعالی کاروائیاں نہیں کریں گے لیکن اشتعالی کاروائیوں سے ڈریں گے بھی نہیں۔ یعنی چین ایسی کاروائیوں کا ضروری جواب دے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ چین کا امریکہ کے ساتھ تعلق ’قصّاص‘ کے اصول پر استوار نہیں ہے۔ ہم کوئی تجارتی یا ٹیکنالوجی جنگ نہیں چاہتے۔ ہم فولادی پردے اور سلیکون پردے کو الوداع کہنا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ امریکی ذرائع ابلاغ میں کہا گیا تھا کہ امریکہ وزارت تجارت آئندہ مہینے، نویدیا اور چِپ کے دیگر پیداوار کنندگان کی طرف سے چین اور دیگر متعلقہ ممالک کے صارفین کو پیشگی لائسنس کے بغیر چِپ کی ترسیل روکنے کے لئے، کاروائیاں کر سکتی ہے۔چین نے بھی”قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کو وجہ دِکھا کر چِپ اور الیکٹرانک سامان کی پیداوار میں استعمال ہونے والی دھاتوں گیلیم اور جرمینیم کی برآمدات محدود کردی تھیں۔