ڈھائی ماہ بعد احتیاطی تدابیر کے ساتھ مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی

,

   

جائے نمازوں کی بجائے فرش پر نماز پڑھی گئی ‘ایک سے زائد جماعت کا اہتمام ‘بعض مساجد میں ہنوز پابندی

حیدرآباد۔12جون(سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے مذہبی مقامات کی کشادگی کے بعد آج ڈھائی ماہ بعد پہلا جمعہ مساجد میں ادا کیا گیا لیکن اس موقع پر کافی احتیاط دیکھی گئی۔ دونوں شہروں کی مساجد میں جہاں خطبہ مختصر کیا گیا وہیں سماجی فاصلہ کی برقراری کے علاوہ دیگر امور کا بھی خصوصی خیال رکھا گیا۔ مساجد میں جمعہ کی اذان کے ساتھ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ مصلی گھروں سے وضوکرکے آئیں اور ضعیف حضرات گھروں میں ہی نماز ظہر ادا کریں۔ شہر کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی جمعہ کے موقع پر خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔ شہر کی بعض مساجد بطور احتیاط جمعہ کے دن بھی نہیں کھولی گئیں اور نہ ہی نماز جمعہ ادا کی گئی۔ کئی مساجد میں قبل از وقت جمعہ ادا کرکے مصلیوں کی تعداد پر قابو پانے کی حکمت عملی تیار کی گئی تھی تاکہ مصلیوں کی آمد کو روکنے کے بجائے قبل از وقت نماز مکمل کرلی جائے۔ مساجد میں جائے نمازوں کو ہٹا دیا گیا اور مصلیوں کو اپنی جائے نماز ساتھ لانے کی اپیل کی گئی تھی۔ بعض مساجد میں ایک سے زائد نماز جمعہ کی نماز اور خطبہ دیا گیا تاکہ علحدہ اوقات میں نماز کی سہولت ہوجائے اور مصلیوں کی بڑی تعداد کو جمع ہونے سے بھی روکا جاسکے ۔ لاک ڈاؤن کے بعد سے اب تک شہر میں محدود تعداد میں مصلیوں کو نماز کی اجازت دی جا رہی تھی لیکن مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے فیصلہ کے مطابق 8جون کو مذہبی عبادتگاہوں کی کشادگی کی اجازت دے دی گئی تھی ۔ اسکے بعد بھی کئی مساجد میں نماز وں کا باضابطہ آغاز کرنے سے احتیاط کیا جانے لگا ہے

کیونکہ شہر میں روزانہ کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہاہے ۔کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ کو روکنے ہجوم کو جمع ہونے سے روکنا ناگزیر قرار دیئے جانے کے سبب آج کئی مساجد میں نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی لیکن بیشتر مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے وسیع انتظامات کے ساتھ صفائی اور ہجوم سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کی گئی تھی ۔شہر میں کئی مساجد میں ایک سے زائد مرتبہ صفوں کی تبدیلی کے ساتھ نماز جمعہ کی ادائیگی اور خطبہ دیا گیا اور نماز کے دوران صفوں میں فاصلہ رکھنے کے علاوہ خطبہ جمعہ و نماز جمعہ کو مختصر وقت میں مکمل کرلیا گیا۔ مساجد میں اذان سے قبل اور اذان کے بعد رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کو یقینی بنانے اور ضعیف حضرات کے علاوہ بچوں کو مساجد میں نہ آنے کا مشورہ دیا گیا۔شہر میں 8جون سے مساجد کی کشادگی کے بعد آج کئی مساجد میں جمعہ ادا نہ کرنے کے سلسلہ میں جواز پیش کرتے ہوئے ذمہ داروں نے کہا کہ وہ شہر میں بڑھتے کورونا مریضوں کو دیکھتے ہوئے پر مساجد کو بند رکھنے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور حالات کے معمول پر آنے تک مساجد میں نماز کی ادائیگی کے سلسلہ میں لاک ڈاؤن کے اصولوں پر ہی عمل آوری کی جائے گی۔