لال بہادر اسٹیڈیم میں تقریب، چیف منسٹر ریونت ریڈی احکامات تقرر حوالے کریں گے
حیدرآباد۔/8 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی کل 9 اکٹوبر کو لال بہادر اسٹیڈیم میں ڈی ایس سی 2023 کے تحت ٹیچرس کی جائیدادوں کیلئے منتخب 11063 ٹیچرس کو احکامات تقرر حوالے کریں گے۔ حکام کی جانب سے تقریب کے انعقاد کیلئے بڑے پیمانے پر تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ڈی ایس سی منتخب امیدواروں کو شہر اور اضلاع میں حکام کی جانب سے ٹیلی فون کالس موصول ہورہے ہیں جس میں خواہش کی گئی ہے کہ ایل بی اسٹیڈیم پہنچ کر سرکاری ملازمت کے احکام تقرر حاصل کرلیں۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے آج شہر اور اضلاع میں تمام منتخب امیدواروں کو ٹیلی فون کالس موصول ہوئے جن سے مقررہ وقت پر لال بہادر اسٹیڈیم میں موجود رہنے کی درخواست کی گئی ہے۔ امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ صبح 8 بجے متعلقہ ضلع کلکٹرس کے دفاتر پہنچیں اور اپنے ساتھ 3 پاسپورٹ سائز تصاویر رکھیں۔ ضلع کلکٹرس کی جانب سے صبح 9 بجے خصوصی بسوں کے ذریعہ امیدواروں کی حیدرآباد روانگی کا انتظام کیا جارہا ہے۔ چیف سکریٹری شانتی کماری نے انتظامات کا ضلع کلکٹرس کے ساتھ ٹیلی کانفرنس میں جائزہ لیا۔ تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی تشکیل کے 10 ماہ میں پہلی مرتبہ ٹیچرس کی 11 ہزار سے زائد جائیدادوں پر تقررات کئے جارہے ہیں۔ ضلع کلکٹرس نے منتخب امیدواروں کے اسنادات کی جانچ کا کام مکمل کرتے ہوئے فہرست محکمہ تعلیم کو روانہ کردی ہے۔ دوپہر 2 بجے تک امیدواروں کو لال بہادر اسٹیڈیم پہنچنے کی خواہش کی گئی ہے۔ اضلاع سے آنے والی آر ٹی سی کی خصوصی بسوں کی پارکنگ کیلئے اسٹیڈیم کے اطراف وسیع انتظامات کئے گئے ہیں۔ چیف سکریٹری نے بارش کی صورت میں تقریب میں کسی بھی رکاوٹ کو روکنے کیلئے رین پروف شیڈ کی تعمیر کی ہدایت دی ہے۔ منتخب امیدوار اپنے افراد خاندان کے ساتھ تقریب میں شرکت کریں گے۔بعض تنظیموں کی جانب سے ڈی ایس سی 2023 میں اردو میڈیم طلبہ کے ساتھ ناانصافی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ کانگریس حکومت نے گزشتہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ڈی ایس سی نوٹیفکیشن میں ترمیم کرتے ہوئے 11062 جائیدادوں کو نوٹیفائی کیا جن میں اردو میڈیم کی 1183 جائیدیدیں شامل ہیں۔ کل چیف منسٹر کی جانب سے منتخب امیدواروں کو تقررات کے احکامات حوالے کئے جائیں گے ، اس وقت امکان ہے کہ صرف 550 امیدواروں کو احکامات حاصل ہوں گے جبکہ مابقی 600 جائیدادیں بیک لاگ رہ جائیں گی۔ اردو میڈیم میں ہر ڈی ایس سی میں بعض نشستیں محفوظ زمروں کے تحت رہتی ہیں جن کیلئے امیدوار دستیاب نہیں ہوتے۔1