ڈی اے وی اسکول کا احیاء

   


متاثرہ طالبہ کے والدین کا احتجاج ، پولیس کی بھاری جمعیت متعین
حیدرآباد ۔ 4 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : تقریبا دو ہفتوں بعد آج بنجارہ ہلز ڈی اے وی اسکول کو بحال کردیا گیا اور اسکول کے آغاز کے پہلے دن طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی تاہم اسکول کے قریب پولیس کی بھاری جمعیت کو تعینات کیا گیا تھا ۔ اس دوران متاثرہ بچی کے والدین بھی اسکول پہونچ گئے اور اپنا احتجاج درج کروایا ۔ تقریبا ایک گھنٹے تک متاثرہ لڑکی کے والدین نے اسکول پر احتجاج کیا اور انصاف کا مطالبہ کررہے تھے ۔ بچی کے والدین کا مطالبہ ہے کہ انہیں انصاف ملنے تک اسکول کو بند کردینا چاہئے ۔ آج اس کشیدہ ماحول کے درمیان اسکول آغاز کے پہلے دن 98 فیصد حاضری درج کی گئی اور اسکول اوقات کے اختتام تک اکثر والدین اسکول کے باہر انتظار کررہے تھے وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اسکول کی کشادگی پر خوش تھے ۔ تاہم دوسری طرف وہ بچوں کی سلامتی کے تعلق سے فکر مند تھے ۔ جو بچوں کو اسکول چھوڑنے کے بعد گھر جانا نہیں چاہتے تھے ۔ امکانی تشدد اور ناخوشگوار واقعہ کا انہیں خوف ستا رہا تھا ۔ اکثر والدین نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کی 18 تاریخ کے دن ڈی اے وی اسکول بنجارہ ہلز میں ایک ایل کے جی طالبہ پر اسکول کے ڈرائیور کی جانب سے جنسی حملہ کا واقعہ منظر عام پر آیا تھا جس کے بعد عوامی برہمی اور والدین کے احتجاج پر حکومت نے سخت اقدام کرتے ہوئے اسکول کی مسلمہ حیثیت کو برخاست کرتے ہوئے فوری اثر کے ساتھ اسکول کو بند کردیا تھا ۔ جس کے بعد اولیائے طلبہ کی درخواست اورمطالبہ پر حکومت نے جاریہ سال کے لیے اس اسکول کو بحال کرنے کا فیصلہ لیا ۔ اور اسکول میں تعلیمی سرگرمیوں کا آج سے آغاز ہوگیا ۔ اسکول میں 40 مقامات پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب عمل میں لائی گئی ہے اور سخت چوکسی اختیار کی جارہی ہے ۔۔ ع