مسلسل بے قاعدگیوں کی شکایات عام ۔اکبر اویسی نے بھی اسمبلی میں ٹمریز کے قیام سے تاحال آڈٹ رپورٹ طلب کی
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد 20 ڈسمبر: حکومت تلنگانہ نے اقتدار پانے کے بعد بی آر ایس حکومت کی بدعنوانیوں کی تحقیقات کا آغاز کرکے خاطیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا اور گذشتہ ڈسمبر میں نشاندہی کے دوران تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں میں بدعنوانیو ںکی نشاندہی کی گئی تھی لیکن افسوس کہ ’ٹمریز ‘ میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کا آغازنہیں ہوسکا۔ حکومت سے کالیشورم پراجکٹ کی تحقیقات ‘ مویشیوں کی تقسیم میں بدعنوانیوں کی تحقیقات‘ فارمولہ ۔ای ریس کی تحقیقات‘ فون ٹیاپنگ تحقیقات کے علاوہ کل اسمبلی میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کی جانب سے آو آر آر ٹنڈرس میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کیلئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ ٹمریز میں اب بھی عہدیداروں کی نگرانی میں بدعنوانیوں کو فروغ مل رہا ہے جس کے خلاف کارروائی کی بجائے خاموشی اختیار کی جانے لگی ہے۔ تلنگانہ میں 2016 میں شروع کئے گئے ٹمریز اداروں میں ابتداء سے ہی بدعنوانیوں کی شکایات کے باوجود پیشرو حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ اس وقت بھی خاموشی اختیار کی گئی تھی اور اب جبکہ ان ںکے قیام کے 8 سال مکمل ہوچکے ہیں ان اداروں میں بدعنوانیوں کی تحقیقات سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ گذشتہ دنو ںقائد مقننہ مجلس جناب اکبر الدین اویسی نے اسمبلی میں ’ٹمریز ‘ میں بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کے ساتھ ٹمریز کے قیام سے اب تک کی آڈٹ رپورٹ طلب کرکے سنسنی پیدا کردی ۔ ( باقی سلسلہ صفحہ 6 پر )