مسلم قائد کو شکست دینے کے سی آر کا کاماریڈی سے مقابلہ، عوام کے سی آر کو شکست دینے بے چین
حیدرآباد۔/10نومبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ کاماریڈی کا نتیجہ تلنگانہ کا مستقبل طئے کرے گا اور وہ کے سی آر کو شکست دینے کیلئے کاماریڈی سے مقابلہ کررہے ہیں۔ کاماریڈی میں پرچہ نامزدگی کے ادخال کے بعد جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ کاماریڈی کے عوام تلنگانہ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے تیار ہیں اور وہ کے سی آر کو شکست دینے کیلئے بے چین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاماریڈی کے نتیجہ پر سارے ملک کی نظریں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے کامیابی کیلئے انہیں کوئی بھی حلقہ موجود تھا لیکن کے سی آر کو شکست دینے کیلئے وہ کاماریڈی سے مقابلہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ سے تلنگانہ میں نئی سیاسی تبدیلی رونما ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر سکریٹریٹ نہیں آتے کیونکہ انہیں عوامی مسائل کی یکسوئی سے کوئی دلچسپی نہیں۔2015 میں ایک کسان نے سکریٹریٹ کے روبرو خودکشی کرلی تھی۔ صدر پردیش کانگریس نے کہا کہ کاماریڈی کو ترقی دینے کا وعدہ کرنے والے کے سی آر کو دوبارہ ووٹ مانگنے کا حق نہیں ہے۔ گجویل میں عوام کے سی آر سے سخت ناراض ہیں کیونکہ کسانوں اور غریبوں کی اراضیات چھین لی گئیں۔ کاماریڈی میں ماسٹر پلان کے نام پر کسانوں اور غریبوں کی اراضیات پر نظر ہے۔ عوام اس منصوبہ کو ہرگز کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ رکن اسمبلی گمپا گوردھن نے عوام کی توقعات کو پورا نہیں کیا ہے۔ ریونت ریڈی نے سوال کیا کہ کے سی آر سدی پیٹ، سرسلہ یا کسی اور حلقہ کے بجائے کاماریڈی سے کیوں مقابلہ کررہے ہیں۔ کانگریس کے مسلم قائد محمد علی شبیر کو شکست دینے کیلئے کاماریڈی کا انتخاب کیا گیا۔ نئی ریاست تلنگانہ سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ صرف کے سی آر خاندان کو اہم عہدے حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ہائی کمان کی ہدایت پر انہوں نے کاماریڈی سے مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے گذشتہ نو برسوں میں مختلف پارٹیوں کے 40 ارکان اسمبلی، 12 ارکان کونسل اور 2 ارکان پارلیمنٹ کو خریدا ہے۔ دیگر پارٹیوں سے انحراف کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے حکومت چلارہے ہیں۔ انہوں نے ارکان اسمبلی خریدی معاملہ میں سی بی آئی تحقیقات کا چیلنج کیا۔ جلسہ عام میں سی پی آئی قائدین ڈاکٹر کے نارائنا، چاڈا وینکٹ ریڈی، صدر تلنگانہ جنا سمیتی پروفیسر کودنڈا رام کے علاوہ کانگریس کے بی سی قائدین نے شرکت کی۔