کانگریس حکومت ،کے سی آر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی : کے ٹی آر

   

انتقامی کارروائی کے طور پر کالیشورم ، فون ٹیاپنگ ، ای فارمولہ کا ڈرامہ
حیدرآباد۔ 11 جون (سیاست نیوز) بی آر ایس کے کارگزار صدر کے تارک راما راؤ نے کالیشورم کمیشن کی جانب سے کے سی آر کو طلب کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت ،کے سی آر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے زوال کا آغاز ہوچکا ہے۔ بی آر ایس پارٹی ،کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرنے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔ بی آر کے بھون کے پاس میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر کو بدنام کرنے کیلئے کالیشورم کمیشن تشکیل دیا گیا۔ کانگریس کا کوئی بھی لیڈر، کے سی آر کے نظریات تک پہنچ نہیں سکتا۔ کے سی آر ایک ویژن رکھنے والی شخصیت کا نام ہے۔ پانی کے معاملے میں ان کی جو معلومات ہیں، وہ کوئی سمجھ نہیں پائے۔ آبپاشی کے بارے میں کے سی آر سے سوالات کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مانند ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ انصاف کی کامیابی ہوگی اور سازشیں ناکام ہوں گی۔ کے سی آر ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے اور صدیوں میں چند ایسے قائدین پیدا ہوتے ہیں۔ علیحدہ ریاست تلنگانہ کے سی آر کی سبب قائم ہوئی۔ کے سی آر کی جدوجہد تاریخ کے سنہرے صفحات پر درج ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ریونت ریڈی تعمیرات کیلئے نہیں آئے بلکہ تعمیرات کو منہدم کرنے کیلئے آئے ہیں۔ تخریبی ذہن اور غریبوں کے گھر توڑنے والے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے پراجیکٹس کی تعمیر کی کوئی امید ہی فضول ہے بلکہ جو پراجیکٹس تعمیر کئے گئے ہیں، اس میں خامیاں ڈھونڈنا، سیاسی طور پر ہراساں کرنا، اِنتقامی کارروائی کرنے کے علاوہ ان کا کوئی ایجنڈہ نہیں ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ریونت ریڈی جس گرو کے شاگرد ہیں، اس گرو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کے سی آر نے نئی پارٹی تشکیل دی اور اپنے مقصد میں کامیاب رہے۔ بی آر ایس پارٹی، ریونت ریڈی کو ہرگز معاف نہیں کرے گی۔ کانگریس پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کرنے تک جدوجہد جاری رہے گی۔ ریونت ریڈی حکومت 6 گیارنٹیز اور 420 وعدوں پر عمل کرنے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ بی آر ایس پارٹی عوامی عدالت میں کانگریس کو بے نقاب کرے گی۔ کابینہ کے تعلق سے بھی ریونت ریڈی لاعلم ہے۔ کابینہ کیسے کام کرتی ہے، اس کی بھی انہیں معلومات نہیں ہے۔ کسانوں کے مفادات پر ریونت ریڈی سیاسی مفادات کو اہمیت دے رہے ہیں۔ چند دنوں سے کالیشورم، فون ٹیاپنگ ، ای فارمولہ ڈرامہ کرتے ہوئے حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کابینی توسیع میں تاخیر کرنے والے ریونت ریڈی آخر میں قلمدانوں کی تقسیم پر بھی ہائی کمان سے بات چیت کررہے ہیں۔ 2