کالیشورم میں ہزاروں کروڑ کی بے قاعدگیاں ، قائدین کی آمد سے پارٹی کارکنوں میں زبردست جوش و خروش، ٹی آر ایس ۔بی جے پی گٹھ جوڑ کا ا لزام
حیدرآباد ۔ 26 ۔ اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے آج کاغذ نگر کے تمیڈی ہٹی پراجکٹ کا معائنہ کیا گیا ۔ صدرپردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کی قیادت میں ارکان پارلیمنٹ اسمبلی کے علاوہ سابق وزراء اور سینئر قائدین نے اس دورہ میں شرکت کرتے ہوئے کسانوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا۔ کانگریس قائدین کے وفد نے ٹرین کے ذریعہ کاغذ نگر تک سفر کیا ، وہاں سے سڑک کے راستہ 100 گاڑیوں کے قافلہ کے ذریعہ پراجکٹ تک پہنچے۔ اس دورہ میں سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا ، ارکان پارلیمنٹ ریونت ریڈی ، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ، رکن کونسل ٹی جیون ریڈی ، سابق فلور لیڈر محمد علی شبیر ، سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ ، سابق سی ایل پی لیڈر جانا ریڈی ، سابق صدر پردیش کانگریس پونالہ لکشمیا ، سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر ، کسم کمار ، ومشی چندر ریڈی ، رکن اسمبلی سیتا اکا ، سابق وزیر سدرشن ریڈی اور دیگر قائدین شامل تھے۔ کانگریس قائدین کے اس دورہ سے پارٹی کیڈر میں زبردست جوش و خروش دیکھا گیا ۔ سینکڑوں کی تعداد میں پارٹی کارکن اس دورہ میں شامل ہوئے۔ پارٹی قائدین نے کسانوں سے بات چیت کی اور پراجکٹ کے بارے میں پارٹی کے موقف کا اظہار کیا۔ ڈسمبر 2008 ء میں اس وقت کے چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے تمیڈی ہٹی پراجکٹ کا سنگ بنیاد رکھا تھا ۔ پراجکٹ کے قریب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمہ کو کانگریس قائدین نے خراج عقیدت پیش کیا۔ دورہ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے حکومت پر پراجکٹ کا ڈیزائین تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ عوامی رقومات کا بیجا استعمال باعث افسوس ہے۔ ذمہ دار اپوزیشن کی حیثیت سے کانگریس پارٹی اس مسئلہ کو بے نقاب کر رہی ہے۔ راج شیکھر ریڈی نے اس پراجکٹ کا آغاز کیا اور افتتاحی کام شروع کیا گیا تھا ۔ 2014 ء سے کے سی آر نے پراجکٹ کے کام کو روک دیا ہے ۔ سابق میں کے سی آر پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کو قومی درجہ دیئے جانے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 38 ہزار کروڑ سے پراجکٹ کی تعمیر کے ذریعہ 16.4 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کے مقصد سے پراجکٹ کا آغاز کیا گیا تھا ۔ کانگریس حکومت نے 152 میٹر پراجکٹ کی بلندی رکھنے کا فیصلہ کیا لیکن کے سی آر نے مہاراشٹرا حکومت سے 148 میٹر بلندی کا معاہدہ کیا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کے سی آر پراجکٹ کی تعمیر کے بارے میں سنجیدہ کیوں نہیں ہیں۔ کم خرچ میں پراجکٹ کے ذریعہ پانی ایلم پلی تک منتقل کیا جاسکتا ہے۔ حکومت نے کالیشورم پر 80,000 کروڑ کی عوامی رقومات ضائع کی ہیں۔ ابھی تک ایک ایکر اراضی کو پانی سربراہ نہیں کیا گیا ۔ اگر اس پراجکٹ کا معمولی حصہ تمیڈی ہٹی پر خرچ کیا جاتا تو 160 ٹی ایم سی پانی سیراب کیا جاسکتا تھا ۔ انہوں نے کالیشورم پراجکٹ کو گلوبل ٹنڈرس کے بجائے نامینیشن پر الاٹ کرنے کی مذمت کی ۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش میں پراجکٹ پر 10,000 کروڑ مختص کئے گئے تھے۔ باقی 28,000 کروڑ خرچ کرنے پر پانی زرعی شعبہ کیلئے سیراب کیا جاسکتا تھا ۔ انہوں نے کے سی آر پر زرعی شعبہ کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تمیڈی ہٹی پراجکٹ کم خرچ میں مکمل کرنے کے بجائے چیف منسٹر نے ری ڈیزائننگ کے نام پر لاگت میں اضافہ کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم کے 25 فیصد کاموں کی تکمیل پر 80,000 کروڑ خرچ کئے گئے۔ باقی 75 فیصد کام کی تکمیل پر کتنی رقم خرچ کی جائے گی ، اس کی وضاحت کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کی بے قاعدگیوں کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس میں خفیہ معاہدہ کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے ۔ رکن کونسل جیون ریڈی نے ٹی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ گٹھ جوڑ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تلنگانہ حکومت کی بے قاعدگیوں پر مرکز خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ تحریک پانی ، وسائل اور ملازمتوں کے لئے چلائی گئی تھی۔ تلنگانہ میں موجودہ آبپاشی پراجکٹ کانگریس دور حکومت کے تعمیر کردہ ہے ، جن کے ذریعہ 50 لاکھ ایکر اراضی کو پانی سیراب کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور ٹی آر ایس باہم مل کر ڈرامہ بازی کر رہے ہیں۔ اگر بی جے پی اپنے الزامات میں سنجیدہ ہیں تو اسے سی بی آئی تحقیقات کا اعلان کرنا چاہئے ۔ رکن پارلیمنٹ وینکٹ ریڈی نے کہاکہ ری ڈیزائننگ کے نام پر کروڑہا روپئے کی لوٹ لی گئی ہے۔ رکن اسمبلی ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر سے عادل آباد ضلع کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔