کانگریس کا میناریٹی ڈیکلریشن دھوکہ ‘اونچی دوکان پھیکا پکوان ۔ کے ٹی آر

,

   

بی آر ایس کی تیسری مرتبہ کامیابی کے بعد اقلیتی بجٹ 5 ہزار کروڑ اور آئمہ موذنین کا ماہانہ اعزازیہ 10 ہزار روپئے ہوگا
حیدرآباد /10 نومبر ( سیاست نیوز ) بی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی آر نے کانگریس کے میناریٹی ڈیکلریشن کو بے فیض و اقلیتوں کو دھوکہ کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ کانگریس مسلم اقلیت کو بی سی طبقات میں شامل کرکے اقلیتوں کی اپنی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے ۔مستقبل میں مسلمانوں اور بی سی طبقات میں جھگڑے کا خدشہ ہے ۔ کانگریس اور بی جے پی نظریات ایک ہونے کا الزام عائد کرکے کہا کہ کانگریس نے بی جے پی قائدین بنڈی سنجے ، ڈی اروند اور راجہ سنگھ کے خلاف کمزور امیدواروں کو اُتارا ہے ۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا ۔وزیر داخلہ محمد محمود علی ، مختلف کارپوریشنس کے صدر نشین محمد سلیم ، امتیاز اسحق مسیح اللہ ، بی آر ایس قائدین شیخ عبداللہ سہیل ، محمد اعظم علی خرم موجود تھے ۔ کے ٹی آر نے کانگریس میناریٹی ڈیکلریشن کو ’اونچی دوکان پھیکا پکوان ‘ قرار دیا اور کہا کہ پارٹی نے اقتدار ملنے پر اقلیتی بجٹ 4 ہزار کروڑ کرنے کا اعلان کیا ہے جو مضحکہ خیز ہے ۔ کیونکہ تیسری مرتبہ بی آر ایس حکومت قائم ہوگی ۔ تب اقلیتی بجٹ 5 ہزار کروڑ تک پہونچ جائے گا ۔ چیف منسٹر نے بی آر ایس کا منشور جاری کرکے ہر سال اقلیتی بجٹ میں مسلسل اضافہ کا وعدہ کیا ہے ۔ کانگریس کے 10 سالہ دور میںاقلیتوں کی ترقی اور بہبود پر صرف 930 کروڑ خرچ کیا گیا جبکہ بی آر ایس حکومت میں 12 ہزار کروڑ خرچ کیا گیا ہے ۔ کئی ریاستوں میں آبادی کے تناسب سے سب سے کم اقلیتیں تلنگانہ میں ہیں مگر اقلیتی بجٹ دوسری ریاستوں سے زیادہ ہے ۔ اس سے اندازہ لگاسکتے ہیں کانگریس کے اقلیتی ڈیکلریشن کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ جن ریاستوں میں کانگریس برسر اقتدار ہے وہاں آئمہ موذنین کو کوئی مشاہرہ نہیں ہے ۔ تلنگانہ میں 10 تا 12 ہزار اعزازیہ کا وعدہ کیا جارہا ہے جو ناقابل بھروسہ ہے کیونکہ چیف منسٹر کے سی آر پہلے سے ماہانہ 5 ہزار روپئے اعزازیہ دے رہے ہیں ۔ آئندہ ہماری حکومت قائم ہونے پر اس کو دوگنا کر دیا جائے گا ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات نہ دینے کا بی آر ایس حکومت پر الزام عائد کیا جارہا ہے ہم نے اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ۔ اسمبلی میں قرارداد منظور کرکے مرکزی حکومت کو روانہ کیا گیا مگر مرکز نے اس کو منظوری دینے سے انکار کردیا ۔ عدالت سے رجوع ہونے پر 4 فیصد مسلم تحفظات کو خطرہ کی تجاویز کے بعد اس میں مزید پیشقدمی نہیں کی گئی ۔ 204 اقامتی اسکولس قائم کئے گئے اقلیتی طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے سالانہ 200 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ بیرونی ممالک میں اقلیتی طلبہ کو اعلی تعلیم کیلئے اوورسیز اسکالرشپس کے تحت 20 لاکھ روپئے دئے جارہے ہیں ۔ شادی مبارک اسکیم کے تحت 2 لاکھ 70ہزار سے زائد اقلیتی لڑکیوں کی شادیوں کیلئے 2330 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ کانگریس نے بی جے پی نظریات کے حامی ریونت ریڈی کو تلنگانہ کانگریس کا صدر بنایا ہے ۔ تلنگانہ میں کانگریس اور بی جے پی کا گٹھ جوڑ ہوگیا ہے ۔ ن