کرناٹک اسمبلی الیکشن میںبرسر اقتدار بی جے پی کو بڑا جھٹکہ
بنگلورو:کرناٹک اسمبلی انتخابات میں لنگایت فرقہ کے ایک طاقتور گروپ ویرشیو لنگایت فورم نے کانگریس کی حمایت کرتے ہوئے ایک کھلا خط جاری کیا ہے۔ فورم نے لنگایت برادری کے ارکان پر زور دیا کہ وہ انتخابات میں کانگریس کے امیدواروں کو ووٹ دیں۔ لنگایت برادری بی جے پی کا روایتی ووٹ بینک رہا ہے اور 1980 کی دہائی سے پارٹی کے رہنما بی ایس یدی یورپا، جن کا تعلق اس کمیونٹی سے ہے، نے لنگایت کی حمایت اور بنیاد کو ترقی دینے کے لیے انتھک محنت کی تھی۔حالانکہ، یدی یورپا کو ہٹائے جانے اور سابق وزیر اعلیٰ جگدیش شیٹر کو ان کے گڑھ ہبلی سے نشست دینے سے انکار کے بعد کمیونٹی بی جے پی کے خلاف سخت ناراض ہے۔ جگدیش شیٹر نے کھل کر اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے قومی آرگنائزنگ سکریٹری بی ایل سنتوش نے انہیں ٹکٹ نہیں دیا، جو ایک طرح کا پیغام ہے کہ بی جے پی لنگایت برادری کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لنگایت برادری کرناٹک میں 17 فیصد طاقت کے ساتھ ایک طاقتور کمیونٹی ہے اور ریاست میں نو لنگایت چیف منسٹرس رہے ہیں۔کانگریس قائد شمنور شیوشنکرپا اور جگدیش شیٹر نے اتوار کی صبح ہبلی میں لنگایت برادری کے لوگوں سے ملاقات کی۔ کانگریس قائد راہول گاندھی نے گزشتہ ہفتے سنگامنتھا مندر کا دورہ کیا تھا، جو لنگایت فرقہ کے بانی بسویشورا کی مقدس عبادت گاہ ہے، جسے بسونّا بھی کہا جاتا ہے۔ 10 مئی کو ہونے والے انتخابات کے ساتھ، طاقتور لنگایت فرقہ کے ایک حصے کی طرف سے دی گئی حمایت نے کانگریس کو بہت بڑی طاقت دی ہے۔کرناٹک الیکشن کی مہم کے دوران نہ صرف مختلف طبقات کی حمایت کیلئے اہم جماعتوں نے کوشش کی بلکہ اس دوران کئی اہم قائدین کی جانب سے وفادریاں تبدیل کرنے کے نتیجہ میں بڑے پیمانے سیاسی ہلچل دیکھنے کو ملی ہے ۔