مسلمان کانگریس کے ساتھ، سابق وزیر محمد علی شبیر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/12 نومبر، ( سیاست نیوز) سابق وزیر محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر حکومت کو اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بات کرنے کا اخلاقی حق نہیں پہونچتا۔ کانگریس کے میناریٹی ڈیکلریشن پر بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر کے ٹی آر اور ہریش راؤ گمراہ کن بیانات دے رہے ہیں۔ محمد علی شبیر جو نظام آباد ( اربن ) اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے امیدوار ہیں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے۔ انہوں نے اقلیتی طبقات کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور کانگریس کے میناریٹی ڈیکلریشن کی تفصیلات بیان کیں۔ نظام آباد کی مسلم تنظیموں نے محمد علی شبیر کی تائید کا اعلان کیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مسلم ڈیکلریشن سے بی آر ایس خوفزدہ ہے اور اسے یقین ہوچکا ہے کہ مسلمان کانگریس کی تائید کریں گے لہذا بی سی طبقات میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 سال تک ائمہ اور موذنین کے اعزازیہ میں اضافہ کا خیال نہیں آیا لیکن میناریٹی ڈیکلریشن کے ساتھ ہی کے ٹی آر نے ائمہ اور موذنین کے اعزازیہ کو ماہانہ 10 ہزار کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کی بی آر ایس، بی جے پی اور مجلس کی مخالفت غیر ضروری ہے۔ مختلف طبقات کی حقیقی تعداد کا پتہ چلانے کیلئے سروے کیا جائے گا تاکہ آبادی کے اعتبار سے سرکاری اسکیمات میں حصہ داری دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے مسئلہ پر بی جے پی، بی آر ایس اور اسد اویسی کی ایک زبان ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا لیکن دس سال میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔ کانگریس نے تعلیم اور روزگار میں 4 فیصد تحفظات فراہم کئے جس سے لاکھوں مسلم طلبہ کو فائدہ پہنچا۔ بی آر ایس نے میناریٹیز بندھو کے تحت ایک لاکھ روپئے کی امداد کا اعلان کیا جس میں 30 فیصد کمیشن حاصل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے عین قبل ایک لاکھ روپئے کی اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے محدود تعداد میں رقم جاری کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر اور ہریش راؤ جان بوجھ کر مسلمانوں اور بی سی طبقات کو گمراہ کررہے ہیں۔ میناریٹی ڈیکلریشن پر کانگریس پارٹی برسراقتدار آتے ہی عمل کرے گی اور اقلیتوں کی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ تلنگانہ میں بی آر ایس، بی جے پی اور مجلس تینوں ایک ہیں اور کانگریس کی کامیابی کو روکنا چاہتے ہیں۔