کانگریس ہائی کمان کا ’’ٹارگیٹ تلنگانہ 2023ء‘‘ کا منصوبہ کامیاب

   

حیدرآباد ۔ 4 نومبر (راست) کانگریس ہائی کمان کی جانب سے تیار کردہ پلان ’ٹارگٹ تلنگانہ 2023ء‘ کامیاب ہورہا ہے۔ مخالف حکومت ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانے تلگودیشم، ٹی جے ایس اور وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کو مقابلہ کرنے سے روکنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہی نہیں وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی سربراہ شرمیلا و تلنگانہ تحریک کے ہیرو ٹی جے ایس صدر پروفیسر کودنڈارام نے کانگریس کی غیرمشروط تائید کا اعلان کیا ہے۔ انڈیا اتحاد میں شامل کمیونسٹ جماعتوں سے مشاورت جاری ہے۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ سی پی آئی نے کانگریس کی تجویز سے اتفاق کیا ہے، جس کا ایک دو دن میں باضابطہ اعلان کئے جانے کا امکان ہے۔ سی پی ایم کانگریس کی تجویز سے مطمئن نہیں ہے۔ 17 اسمبلی حلقوں سے مقابلہ کا اعلان کیا ہے۔ تاہم سی پی ایم کی قومی قیادت سے تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔ کانگریس نے تلنگانہ کیلئے جو حکمت عملی تیار کی ہے اس میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ سیاسی جماعتوں سے اتحاد و مفاہمت کے علاوہ کانگریس دانشوروں، جہدکاروں، طلبہ تنظیموں، مذہبی تنظیموں سے بھی رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔ کانگریس کی تائید میں منظرعام پر آنے تیار نہ رہنے والوں کو پس منظر میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ بھی اپنے اپنے حلقوں میں کانگریس کیلئے ماحول سازگار بنانے کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں۔ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کیلئے جو ماحول پیدا ہوا ہے، اس میں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی نے بھی اہم رول ادا کیا ہے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کانگریس پارٹی نے تشکیل دی ہے تاہم 2014ء کے عام انتخابات میں تلنگانہ جذبہ کے تحت معمولی اکثریت سے کے سی آر نے ٹی آر ایس کی حکومت تشکیل دی۔ 2018ء کے انتخابات میں ماحول کانگریس کیلئے سازگار تھا۔ تاہم اس وقت تلگودیشم، ٹی جے ایس اور سی پی آئی سے اتحاد کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے مقابلہ کیا تھا مگر یہ کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ ٹی آر ایس نے تلگودیشم کو آندھرائی جماعت قرار دینے میں اہم رول ادا کیا۔ اتحادی جماعتیں مخالف حکومت ووٹ کو حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ریونت ریڈی نے کانگریس ہائی کمان کو رپورٹ پیش کی اور سیاسی جماعتوں کو انتخابی مقابلہ سے دور رکھنے میں اہم کامیابی حاصل کی کیونکہ تلنگانہ میں بی آر ایس، کانگریس اور بی جے پی میں سہ رخی مقابلہ ہورہا ہے جس میں ہر ایک 1000 ووٹ کی اہمیت ہے جو کسی بھی امیدوار کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ مخالف حکومت ووٹوں کو تقسیم ہونے سے بچانے کیلئے کانگریس پارٹی نے جو حکمت عملی تیار کی ہے اس میں وہ پوری طرح سے کامیاب ہوئی ہے۔ تلگودیشم کے مقابلہ نہ کرنے سے سیما۔ آندھرا اور کما طبقہ کے ووٹ کانگریس کو حاصل ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی اور ٹی جے ایس کا بھی چند حلقوں میں اثرورسوخ ہے۔ کمیونسٹ جماعتوں کا بھی چند نشستوں پر اثر ہے۔ سی پی آئی کانگریس کی تائید کیلئے تیار ہوگئی ہے۔ پرچہ نامزدگیوں کا عمل مکمل ہونے کے بعد کانگریس پارٹی تلنگانہ میں بڑے پیمانے پر انتخابی مہم چلانے کی حکمت عملی تیار کررہی ہے۔ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کے تلنگانہ میں زیادہ دوروں کا شیڈول تیار کیا جارہا ہے۔ ساتھ ہی شرمیلا، پروفیسر کودنڈارام اور سی پی آئی قائدین کو کانگریس کے پلیٹ فارم پر اکھٹے کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتیں متحد ہونے اور بی آر ایس حکومت کے خلاف کانگریس کا موقف طاقتور ہونے کا ثبوت دینے کی بھی منصوبہ بندی تیار کی گئی ہے اس کے علاوہ کانگریس کے سینئر قائدین کو انتخابی مہم کا حصہ بنایا جارہا ہے۔
ساتھ ہی کانگریس پارٹی میڈیا و سوشل میڈیا پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ کانگریس کے اعلان کردہ 6 گیارنٹی کو عوام تک پہنچانے کے علاوہ حکومت کی ناکامیوں کے تعلق سے شعور بیدار کررہی ہے۔ن