کرشماتی طور پر ہوائی جہاز کی لینڈنگ کے ذریعہ روسی پائلٹ نے بچائی 233لوگوں کی بچائی جان

,

   

ماسکو سے آڑان بھرنے کے کچھ سیکنڈ بعد‘ تکنیکی خرابی کے سبب ہوائی جہاز کے دونو ں انجن بندہوگئے۔

ماسکو۔ روسی مسافر ہوائی جہاز کا مذکورہ کپتان جمعرات کے روز اس وقت سارے ملک کے ہیرو بن گیا جب اس نے آڑان کے کچھ سیکنڈوں بعد تکنیکی خرابی کے سبب ہوائی جہاز کے دونوں انجن بند ہوجانے کی وجہہ سے اپنے ہوائی جہاز کو بھٹی کے کھیت میں کامیابی کے ساتھ اتاردیاتھا۔

وہیں درجنوں لوگوں نے طبی امداد طلب کی‘ صرف ایک کو اسپتال میں داخل کیاگیا۔اس واقعہ نے سال2009میں پیش ائے ”کرشماتی ہڈسن“کی یاد تازہ کردی جب ایک کپتان نے اپنے ہوائی جہاز کو نیویارک کی ہڈسن ندی میں

اس وقت اتاردیاتھا جب ایک پرندہ ہوائی جہاز کے انجن میں پھنس گیاتھا۔

اس واقعہ کو ہالی ووڈ فلم ”سوللی“ میں پیش کیاگیا جو کپتان چیسلی سلان برگر کی اٹوبائیوگرافی پر مشتمل تھی جس میں ٹام ہانکس نے کام کیاتھا۔

ماسکو کے زہوکواسکی ائیر پورٹ سے جمعرات کے روز یورال ائیرلائنس کے اے321نے 226مسافرین اور سات اسٹاف ممبران کے عملے کے ساتھ کریمیا کے سیمفوروپول کی طرف اڑان بھری تھی۔

روس کے روسویاتیسیا ریاستی ایویشن ایجنسی کے چیف الگزینڈر نیرا ڈ کو نے رپورٹرس سے کہاکہ مذکورہ عملے نے دونو ں انجن بند ہوجانے کے بعد لوگوں سے بھری جہاز کو اتارنے کا ”محض درست فیصلہ لیاہے“۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ”عملے نے حوصلہ اور پیشہ وارانہ تیور دیکھائے ہیں اور وہ ملک کے سب سے باوقار ایوارڈ کے حقدار ہیں“۔انہوں نے مزیدکہاکہ مسافرین سے بھرے جہاز میں سولہ ٹن کیروسین بھی شامل تھا۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس بات کا تصورکریں کہ اگر عملے صحیح فیصلہ نہ کرتاتو کیااس کے نتائج کیاہوتے“۔مذکورہ ائیرلائن نے کہاکہ کپتان 41سالہ ڈامیر یوسوپاؤ نہایت تجربہ کار پائلٹ ہیں جس کے پاس 3000گھنٹوں کی آڑان کا تجربہ ہے۔

یوسوپاؤ ایک ہیلی کاپٹر پائلٹ کے بیٹے ہیں‘ پہلے وہ وکیل تھے اور انہو ں نے32سال کی عمر میں فلائٹ اسکول میں شمولیت حاصل کی تھی۔

چاربچوں کے والد یوسوپاؤ نے 2013میں ارول ائیرلائنس میں گریجویشن کی تکمیل کے بعد سے کام کررہے ہیں اورپچھلے سال وہ کپتان بنے۔

روسی ٹیلی ویثرن چیانلوں نے ہوائی جہاز کے قریب بھٹے کے کھیت میں کھڑے مسافرین کی فوٹیج جاری کی جو پائلٹ سے گلے مل کر ان کی زندگیاں بچانے پر شکریہ ادا کررہے تھے

۔ٹیلی ویثرن پر تبصرے کے دوران ایک سابق کپتان وکٹر زابولاسٹکی نے کہاکہ ”ہوائی جہاز کو لڑکھڑنے سے روکنے اور فوری طور پر اس کو اتارنے کے لئے جگہ کی تلاش کرنا ایک بڑا کارنامہ تھا“۔

مذکورہ عملے کو کافی داد وتحسین مل رہی ہے۔ روسی صدر ولا میر پوٹین کے ترجمان ڈمیٹری پسکوے نے پائلٹوں کو ”ہیرو“ قراردیا او رکہاکہ انہیں قومی ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔