کانگریس اقتدار کیساتھ ہی برقی کٹوتی شروع، بی آر ایس ڈبل اسپیڈ سے دوبارہ حکومت تشکیل دے گی
نلگنڈہ ۔ 13 ۔ فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر نے کرشنا پانی کے مسئلہ پر کل جماعتی وفد کو دہلی لیجانے کا کانگریس حکومت سے مطالبہ کیا اور کہا کہ چلو نلگنڈہ جلسہ عام ایک الٹی میٹم ہے۔ اسمبلی اجلاس کے بعد ہم بھی میڈی گڈہ کا دورہ کریں گے ۔ حیدرآباد کے بشمول ریاست میں بڑے پیمانہ پر برقی کٹوتی شروع ہوجانے کا دعویٰ کرتے ہوئے انہوں نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بی آر ایس ڈبل اسپیڈ کے ساتھ دوبارہ اقتدار حاصل کرے گی ۔ نلگنڈہ میں آج جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو سنبھل جانے کا مشورہ دیا ۔ بصورت دیگر حکو مت کا پیچھا کرنے کا انتباہ دیا۔ چلو نلگنڈہ جلسہ ابتداء ہے۔ انتہا سمجھنے کی چیف منسٹر اور کانگریس حکومت غلطی نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے پراجکٹس کو مرکز کے حوالے کرنے کی سازش کی جارہی ہے جس کو بی آر ایس ہرگز قبول نہیں کرے گی ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد بی آر ایس حکومت نے 24 گھنٹے برقی سربراہی کو یقینی بنایا تھا جس سے عوام خوش اور مطمئن تھے، مگر کانگریس کے دو ماہی حکومت میں برقی کٹوتی کا آغاز ہوگیا۔ حتیٰ کہ اسمبلی میں بھی جنریٹر تیار رکھا گیا ہے ۔ 5 دن کے اسمبلی سیشن میں 7 مرتبہ کٹوتی ہوئی ہے ۔ عوام کو پریشان کرنے والی کانگریس حکومت کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے الز ام لگایا کہ دریائے کرشنا کا پانی لیجاکر کے آر ایم بی کے حوالے کیا جارہا ہے ۔ کانگریس حکومت اگر سنجیدہ ہے تو ریونت ریڈی کل جماعتی وفد کو فوری دہلی لے جائیں ۔ وزیر اعظم سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے برجیش ٹریبونل کا ٹائم فریم تیار کریں ۔ میڈی گڈہ بیاریج کے 250 تا 300 پلرس ہیں۔ دریائے گوداوری پر تین بیاریجس ہے ۔ 200 کیلو میٹرس کے ٹنلس ہے ، کانگریس کے دور حکومت میں تعمیر کردہ ناگرجنا ساگر میں خرابی نہیں آئی کیا۔ کیا موسیٰ پراجکٹ کے گیٹس کو نقصان نہیں پہنچا۔ بی آر ایس کا یہ سیاسی نہیں احتجاجی جلسہ ہے ۔ اپوزیشن پارٹی ہمیشہ عوامی مسائل کو اٹھائے گی اور بی آر ایس عوام کے درمیان رہے گی۔2
زبان سنبھال کر بات کرنے کا کانگریس قائدین کو انتباہ دیا۔