دہشت گردی کے مسئلہ پر کانگریس قائد نے وزیر اعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا
بنگلورو:کرناٹک اسمبلی انتخاب میں زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔ ایسے میں سبھی پارٹیاں دھواں دھار انتخابی تشہیر میں مصروف ہیں۔ بی جے پی کی خستہ حالت کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم مودی خود ہی ریاست میں محاذ سنبھالے ہوئے ہیں۔مودی نے دہشت گردی کے مسئلہ پر کانگریس کو گھیرنے کی کوشش کی تو کانگریس قائد گاندھی نے انھیں سخت جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کو بہانہ بنانے کی جگہ کرناٹک کے لوگوں کو یہ بتانا چاہیے کہ گزشتہ تین سالوں میں ریاست میں ’40 فیصد کمیشن‘ کے خلاف کیا کچھ کیا؟راہول گاندھی نے دہشت گردی سے متعلق وزیر اعظم مودی کے بیان پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو ان سے بہتر مودی بھی نہیں سمجھ سکتے۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے ان کی دادی اندرا گاندھی اور والد راجیو گاندھی کا قتل کیا تھا۔ دہشت گردی کیا ہوتی ہے اور دہشت گرد کیا کرتا ہے، اس کو میں وزیر اعظم سے بہتر سمجھتا ہوں۔ میری فیملی دہشت گردی کی شکار رہی ہے، ایسے میں وہ دہشت گردی کو مجھ سے بہتر نہیں سمجھ سکتے۔ دراصل پی ایم مودی نے جمعہ کے روز کرناٹک اسمبلی انتخاب میں فلم ’دی کیرالہ اسٹوری‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کانگریس کو نشانہ بنایا تھا۔ اسی پر راہول گاندھی نے آج جوابی حملہ کیا۔راہول گاندھی نے آج اپنی تقریر کے دوران الزام لگایا کہ ’’گزشتہ تین سالوں میں بی جے پی نے کرناٹک میں چوری کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ شاید ملک کی سب سے بدعنوان حکومت کرناٹک کی بی جے پی حکومت ہے۔ ٹھیکیداروں کے ایسو سی ایشن نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر کہا کہ 40 فیصد کمیشن لیا جا رہا ہے۔ آج تک وزیر اعظم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔‘‘ راہول گاندھی نے وزیر اعظم مودی پر طنز کستے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم کرناٹک آتے ہیں، لیکن بدعنوانی کے بارے میں ایک لفظ نہیں بولتے۔ وزیر اعظم جی، کرناٹک کے نوجوانوں کو بتائیے کہ آپ نے بدعنوانی کے خلاف کیا کیا؟‘‘کانگریس لیڈر نے اس دوران کرناٹک کی بی جے پی حکومت پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے وزیر اعظم مودی سے 4 سوالات بھی کئے جو اس طرح ہیں‘وزیر اعظم نے 40 فیصد کمیشن والی حکومت کے بارے میں کیا کیا؟کتنے لوگوں کو وزیر اعظم نے گرفتار کروایا؟وزیر اعظم نے کتنی جانچ کرائی؟وزیر اعظم بتائیں کہ 40 فیصد میں سے کتنا کرناٹک کے انجن کو ملا، کتنا دہلی کے انجن کو ملا؟۔