جنتادل سیکولر سے انتخابی مفاہمت، تلنگانہ سے متصل اضلاع میں الیکشن لڑیں گے
حیدرآباد ۔6 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قومی سیاست میں حصہ لینے کے اعلان کے ساتھ ہی کرناٹک اور مہاراشٹرا پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں جنتا دل سیکولر کے ساتھ مفاہمت کے ذریعہ پہلی مرتبہ بھارت راشٹرا پارٹی (بی آر ایس) قسمت آزمائی کرے گی۔ چیف منسٹر نے پارٹی کے اعلان کے موقع پر حیدرآباد میں موجود سابق چیف منسٹر ایچ ڈی کمار سوامی اور ان کے ارکان اسمبلی سے مجوزہ اسمبلی انتخابات کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ سے متصل کرناٹک کے اضلاع میں جنتا دل سیکولر سے انتخابی مفاہمت کی جائے گی۔ سابق ریاست حیدرآباد کے تحت موجود علاقوں میں بی آر ایس کے امیدواروں کو کھڑا کرنے کا منصوبہ ہے کیونکہ ان اضلاع میں تلگو بولنے والے افراد کی خاصی تعداد بستی ہے۔ کرناٹک کے علاوہ مہاراشٹرا میں کے سی آر اپنی نئی پارٹی کو متعارف کرائیں گے۔ کرناٹک اور مہاراشٹرا سے کے سی آر کی دلچسپی پر خود ٹی آر ایس کے حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ کرناٹک میں کانگریس اور جنتا دل سیکولر کی مخلوط حکومت رہ چکی ہے۔ ایسے میں بی آر ایس کے انتخابی میدان میں اترنے سے سیکولر ووٹ تقسیم ہوسکتے ہیں۔ کے سی آر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ کمارا سوامی نے انتخابات سے قبل کے سی آر کو بنگلورو دورہ کا مشورہ دیا ہے تاکہ ایچ ڈی دیوے گوڑا اور دیگر قائدین سے مشاورت کی جائے ۔ مہاراشٹرا میں ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا سے مفاہمت کے سی آر کیلئے آسان نہیں ہوگی۔ر