کرونا وائرس کی جانچ میں 60فیصد معاملات سامنے آنے کے بعد انتارتیکا کروز جہاز سے مسافرین کواتار دیاگیا

,

   

جمعرات کے روز ایک متاثرہ انتارتیکا کروز جہاز سے آسڑیلیا اور نیوز لینڈ کے مسافرین کو اس وقت نکالا گیاجب جہاز میں سوار 60فیصد متاثرین کی جانچ مثبت پائی گئی تھی
آسڑیلیا۔ آسڑیلیا کے اوررامہموں کے ذریعہ چلائی جانے والے ایک کروز جہاز کی انتارتیکا اور ساوتھ جارجیا کے لئے15مارچ کے روز روانگی عمل میں ائی تھی۔

تاہم اپریل کے آغاز کے ساتھ ہی مذکورہ کشتی کو یورگوا کے ساحل پر روک دیاگیاتھا‘ کیونکہ انتظامیہ نے کرونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر مسافرین کو ڈسمیبرگ میں آنے کی منظوری نہیں دی تھی۔

جہاز میں سوار 217لوگوں میں سے 128مسافرین کرونا وائرس کی جانچ میں مثبت پائے گئے ہیں۔

چھ مسافرین جنھیں شدید طبی نگہداشت درکار ہیں انہیں مونٹی ویڈیو کے طبی مرکز میں منتقل کردیاگیا ہے‘

یوروگوا بحریہ کی جانب سے ایک ان لائن ویڈیو جاری کیاگیا ہے جس میں دیکھاجاسکتا ہے کہ پوری حفاظتی سازوسامان کے ساتھ انہیں ایک کشتی سے دوسری کشتی میں منتقل کیاجارہا ہے۔

تاہم یوروپی اور امریکی مسافرین جس کی کرونا وائرس جانچ مثبت پائی گئی ہے‘ انہیں ہوائی جہاز میں ہی رکھا گیاہے‘ اوروا نے کہاکہ جب تک ان کی جانچ منفی نہیں ہوجاتی تب تک وہ جہاز میں ہی رہیں‘

اس کے بعد ہی انہیں ہوسکتا ہے برازیل کے لئے روانہ کیاجائے گا۔کمپنی کی ویب سائیڈ کے مطابق تمام مسافرین کی ہر دو سے تین دن بعد جانچ کی جارہی ہے

اس ماہ کے اوائل میں جاری کردہ ایک بیان میں اورا نے کہا تھا کہ کشتی کے ڈاکٹرس نے کو بھی بخار آگیاتھا اور ”ہم ایک دوسری طبی ٹیم کی تشکیل تیار کررہے ہیں“۔

بیان میں کہاگیاہے کہ ”مذکورہ کروز اپریٹر نے مزیدبتایاکہ انہوں نے ”رسمی طور پر ایک درخواست دی ہے‘‘ تاکہ یوروگوائی انتظامیہ انہیں کروز کو ساحل پر آنے کی اجازت دے اور مسافرین کو ڈیسمبرک میں آنے کی اجازت دی مگر اب تک وہ درخواست زیر التوا ہے“۔

پچھلی جمعرات کو یورگوائی حکومت نے کہاتھا کہ انہوں نے نیوزی لینڈ اور آسڑیلیائی مسافرین کو نکالنے کے لئے ایک میڈیکل فلائٹ کی منظوری دی ہے۔

مذکورہ مسافرین جمعرات کے روز ملبورن کے لئے اوروا کے چارٹر فلائٹ میں روانہ ہوں گی اور انہیں اپنی منزل پر جانے سے قبل وہاں پر 14دنوں کے قرنطین میں رکھا جائے گا۔

کرونا وائرس کی عالمی وباء کی وجہہ سے ایک درجن سے زائد کروز جہازیں سمندر میں پھنسی ہوئی ہیں‘

کیونکہ ممالک انہیں منظوری نہیں دے رہے ہں جس کے پاس متاثرہ مسافرین موجود ہیں