سی آئی اے کے سابق اہلکار کا اعتراف جرم
نیویارک:14ستمبر ( یو این آئی)امریکہ میں ایک سابق سی آئی اے اہلکار، جس کے گھر سے چار کروڑ ڈالر مالیت کے سونے کے بسکٹ برآمد ہوئے تھے، نے سرکاری تنخواہ میں فراڈ کے مقدمے میں ایک ابتدائی معاہدے کے تحت اپنے جرم کا اعتراف کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ جمعہ کو ایک وفاقی جج نے ملزم ڈیوڈ جے رش کے خلاف باضابطہ فردِ جرم عائد کرنے کی مہلت 8 اکتوبر تک بڑھا دی ہے۔اس تاخیر کا مقصد سرکاری وکیلوں اور صفائی کے وکیل کو اعترافِ جرم کے معاہدیکو حتمی شکل دینے کا وقت دینا ہے تاکہ مقدمہ عوامی سماعت تک نہ پہنچے۔ ایف بی آئی کے حلف نامے کے مطابق ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2015 میں امریکی نیوی سے ریٹائرمنٹ کے باوجود اپنی ٹائم شیٹ پر 744 گھنٹوں کی فوجی چھٹیوں کا جھوٹا کلیم کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جنوبی کیرولائنا کی کلمسن یونیورسٹی اور نیویارک کے رینسلر پولیٹیکنک انسٹی ٹیوٹ کی جعلی ڈگریوں کا دعویٰ کر کے اپنی تنخواہ میں غیر قانونی اضافہ کروایا۔ایف بی آئی کی عدالت میں جمع کرائی گئی تفتیشی رپورٹ میں ایک حیران کن انکشاف ہوا کہ ڈیوڈ رش کے گھر کی تلاشی کے دوران تفتیش کاروں نے 300 سے زائد سونے کے بسکٹ (جن کی مالیت 4 کروڑ ڈالر سے زائد ہے)، 20 لاکھ ڈالر نقد اور 35 قیمتی لگڑری گھڑیاں برآمد کی تھیں۔ایف بی آئی کے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ سونا ڈیوڈ رش نے امریکی حکومت سے ’کام سے متعلق اخراجات‘ کے نام پر حاصل کیا تھا جبکہ عدالت میں وزارتِ انصاف کے وکیل نے واضح کیا کہ ڈیوڈ رش کو یہ سونا اپنے گھر رکھنے کی کوئی اجازت نہیں تھی۔