میدک میں سابق رکن اسمبلی پدما دیویندر ریڈی الزام
میدک ۔ 3 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ایس سبھاش ریڈی ایم ایل سی میدک نے میدک بی آر ایس آفس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریاستی تلنگانہ حکومت کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت امسال کسانوں سے اناج کی خریدی انتظامات میں کسانوں کو سہولتوں کی فراہمی میں یکسر ناکام ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی کے سی آر حکومت نے (کرونا) جیسی صورتحال میں بھی کسانوں کے حق میں پورے انتظامات کے ساتھ دھان خریدی مراکز قائم کرتے ہوئے اندرون 72 گھنٹوں میں کسانوں کے اکاؤنٹ میں امدادی رقم جمع کردی تھی۔ ایم ایل سی سبھاش نے کہا کہ محض ناریل پھوڑتے ہوئے دھان کی خریدی مراکز قائم کرنا درست اقدام نہیں بلکہ دھان خرید کرکے فوری رائس ملز کو منتقل کرنا چاہئے اور کسانوں کے اناج کو بے وقت کی بارش سے بچانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ سیول سپلائز اور رائس ملز کے مالکان میں راست شراکت نہ ہونے کی وجہ غلوں کو تولا نہیں جارہا ہے۔ مراکز پر دھانوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان آئندہ فصل، یاسنگی کی پیداوار کرنے کے لئے گھبرا رہے ہیں۔ حکومت کی اس طرح کی غفلت و تساہلی کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ تذبذب کا شکار ہیں۔ ایم ایل سی سبھاش نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کالیشورم کے ذریعہ بی آر ایس ریاست کو سرسبز و شاداب بنانے کے لئے ایک لاکھ 50 ہزار کروڑ صرف نہیں کیا جبکہ اس کے برعکس حکومت تلنگانہ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے لئے ایک لاکھ 50 ہزار کروڑ خرچ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس سرکار تاحال پچھلی حکومت کے دوران داخل کردہ کلیان لکشمی اور شادی مبارک کے چیکس ہی جاری کرتی آرہی ہے۔ نئی درخواستیں ابھی تک جوں کی توں ہی پڑی ہوئی ہیں اور تاحال رعتو بھروسہ اور قرض معافی بھی مکمل نہیں ہوئی۔