کشمیری قالین بافی میں نئی ٹیکنک کا استعمال

   

سرینگر: میوزک اور فنون لطیفہ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے والے ایک کشمیری نوجوان نے ایک نئی تکنیک کو استعمال میں لا کر کشمیری قالینوں کو بین الاقوامی بازاروں میں نہ صرف جاذب نظر بلکہ گاہکوں کی خریداری کی پہلی پسند بھی بنا دیا ہے ۔سری نگر سے تعلق رکھنے والے نواز شاہ صوفی نے ہاتھوں سے بننے والے قالینوں میں ’زری‘ کا پہلی بار استعمال کیا جس کی مدد سے دھاتی دھاگوں اور کثیر رنگوں کو استعمال کر کے ہاتھوں سے قالین بنائے جاتے ہیں۔نواز شاہ کی اس منفرد تکنیک کے استعمال سے کشمیری قالینوں کی تجارت میں نئی جان آگئی ہے جس کی حالت انتہائی نا گفتہ بہہ تھی۔نواز شاہ ’زری‘ کا استعمال کر کے دھاگوں کے پرکشش رنگوں سے دیواروں پر آویزاں رکھنے کیلئے قالین بناتے ہیں جن پر قرآن پاک کی خطاطی آیات، قدرتی و ثقافتی ورثے کی نقش و نگاری کی گئی ہوتی ہے اور ان قالینوں کو دبئی میں منعقدہ عالمی نمائش میں رکھا گیا تھا۔