سرینگر: وسطی ضلع بڈگام کے چاڈورہ علاقے میں گذشتہ روز مشتبہ جنگجوؤں کے ہاتھوں راہل بٹ نامی پنڈت کی ہلاکت کیخلاف جمعہ بعد دوسرے دن بھی وادی کے مختلف اضلاع میں احتجاجوں کا سلسلہ جاری رہا۔ضلع بڈگام کی شیخ پورہ پنڈت کالونی میں رہائش پذیر پنڈت برادری کے لوگوں نے جمعے کے روز بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاجیوں میں زن و مرد شامل تھے اور وہ جم کر نعرہ بازی کر رہے تھے ۔تفصیلات کے مطابق احتجاجیوں نے اس دوران ائر پورٹ روڈ کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی جس کو وہاں تعینات پولیس اہلکاروں نے ناکام بنا دیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس کو احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے کچھ آنسو گیس کے گولوں کا استعمال اور معمولی نوعیت کا لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا۔احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ پہلے وہ کالونی میں ہی احتجاجی دھرنے پر بیٹھے تھے اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا انتظار کر رہے تھے لیکن جب وہ نہیں آئے تو ہم باہر نکلنے پر مجبور ہوگئے ۔ان کا الزام تھا کہ سرکار انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے ۔احتجاجیوں نے کہا کہ وہ کالونی میں کسی حد تو محفوظ ہیں لیکن باہر دفتروں یا کام کے دوسرے جگہوں پر بالکل محفوظ نہیں ہیں۔احتجاجی ضلع مجسٹریٹ بڈگام کے خلاف بھی جم کر نعرہ بای کر رہے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ موصوف ضلع مجسٹریٹ نے بھی ہمارے پاس آنے کی زحمت نہیں کی۔موصولہ اطلاعات کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں بھی جمعے کے روز پنڈت برادری کے لوگ کپوارہ- سری نگر شاہراہ پر جمع ہوئے اور راہل پنڈت کے قاتلوں کے خلاف نعرہ بازی کرنے لگے ۔