خود اہل کشتی کی سازشیں ہیں کہ ناخدا کی نوازشیں ہیں
وہیں تلاطلم کو ہوش آیا جہاں کناروں نے ساتھ چھوڑا
اقتدار کی ہوس میں سیاسی قائدین کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوجاتے ہیں اور قانون کی دھجیاں تک اڑائی جاتی ہیں۔ اقتدار حاصل کرنے اور حکومت سنبھالنے کے بعد عوام کو اور سماج کے تمام طبقات کو اخلاقیات اورحب الوطنی کا درس دینے والے قائدین اور دستوری عہدوں پر فائز افراد ہی انتہائی اشتعال انگیز اور متنازعہ ریمارکس کرتے ہوئے انتخابی موسم میں عوام کے جذبات کا استحصال کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ملک کے مفادات کو بھی خاطر میں نہیں لایا جاتا ۔ ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں جن میں اترپردیش سب سے اہم ہے ۔ یہاں بی جے پی اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے ۔ ایسے میں انتخابات جیتنے کیلئے ہر ہتھکنڈہ اختیار کیا جا رہا ہے ۔ خاص طور پر چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ اس معاملے میں سب سے ایک قدم آگے ہیں۔ وہ ہٹ دھرمی والے رویہ کے ساتھ کسی کو خاطر میں لانے تیار نہیں ہیں۔ من مانی اور آمرانہ روش اختیار کرتے ہوئے تمام قوانین کی دھجیاں اڑانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ آج اترپردیش میں پہلے مرحلے میں اسمبلی کی 58 نشستوں کیلئے ووٹ ڈالے گئے ۔ مزید مراحل کیلئے بھی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں ایسے میں رائے دہندوں سے اپنے حق میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کرنا ان کا حق ہے اور اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے لیکن انہوں نے حسب روایت متنازعہ ریمارک کرتے ہوئے ملک کی دوسری ریاستوں کی ہتک کرنے کی کوشش کی ہے ۔ آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اگر ووٹرس سے فیصلے کی غلطی ہوجائے ( یعنی بی جے پی کو شکست ہوجائے ) تو اترپردیش بھی کشمیر ‘ کیرالا اور مغربی بنگال جیسا ہوجائیگا ۔ سوال یہ ہے کہ آیا ملک کی جن تین ریاستوں کا حوالہ دیا گیا کیا وہ ہندوستان کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ علاقائی جذبات کے استحصال کی کوشش تو ہے ہی لیکن اس سے دوسری ریاستوں کی ہتک اور توہین ہو رہی ہے جبکہ جن تین ریاستوں کا آدتیہ ناتھ نے تذکرہ کیا ہے وہ ہندوستان کی شان کہی جاسکتی ہیں۔ کشمیر ہمارا اٹوٹ حصہ ہے اور یہ ہندوستان کے سر کا تاج ہے ۔ اسے جنت ارضی کہا جاتا ہے ۔
کشمیر کی خوبصورتی ساری دنیا میں مشہور ہے ۔ ہندوستان کا ہر شہری اس خوبصورت جنت ارضی کی سیاحت کرتے ہوئے یہاں کے دلفریب اور خوبصورت نظاروں سے محظوظ ہونا چاہتا ہے ۔ مغربی بنگال کا کلچر ہندوستان کی مثالی روایات میںشمار ہوتا ہے ۔ اس ریاست میں جو کاسموپولیٹن کلچر ہے اس کی مثال ملک کی دوسری ریاستوں میں نہیں مل سکتی ۔ یہاںکی مذہبی اور سماجی روایات اور یہاں کے عوام کا ورک کلچر دوسروں کیلئے مثالی ہی کہا جاسکتا ہے ۔ چیف منسٹر کو اس حقیقت کا پتہ ہونا چاہئے تھا لیکن انہوں نے تنازعات کی زبان بولنے کی روایت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ چیف منسٹر نے کیرالا کی مثال دی ہے ۔ کیرالا ہندوستان کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور خواندہ ریاست ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کو یہاں ابھی تک اپنے قدم جمانے کا موقع نہیں مل سکا ہے ۔ کیرالا کے تعلیم یافتہ ووٹرس کبھی اپنے فیصلے میں کوئی غلطی نہیں کرتے ۔ وہ مذہبی جنونیت یا جذباتی استحصال کا شکار ہوئے بغیر کارکردگی کی بنیاد پر حکومتیں چنتے ہیں ۔ جہاں تک خواندگی کی بات ہے تو یوگی کا اترپردیش سب سے نچلے زمرہ میںشامل ہوتا ہے ۔ یوگی اترپردیش کے عوام کو تعلیم اور خواندگی سے دور رکھنا چاہتے ہیںتاکہ وہ ان کا مذہبی استحصال کرتے ہوئے اپنے اقتدار کو یقینی بناسکیں۔ ریاست کی ترقی اور عوام کی بہتری سے زیادہ انہیں اپنے اقتدار کا پرواہ ہے اورا س کیلئے وہ بنا سوچے سمجھے آمرانہ روش اختیارکرتے ہوئے قانونی اداروں کو بھی چیلنج کرنے لگے ہیں۔
انتخابات اتردیش میں ہو رہے ہیں۔ یوگی اترپردیش کے چیف منسٹر ہیں ۔ انہیں دوسری ریاستوں کی مثال دینے کی بجائے اپنی حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کرنی چاہئے ۔ انہیں یہ بتانا چاہئے کہ انہوں نے کیرالا کی طرح ریاست میں کتنے تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں۔ کتنی یونیورسٹیز بنائی گئی ہیں۔ ریاست میں خواندگی کی شرح اور تناسب میں کتنے فیصد کی بہتری لائی گئی ہے ۔ کشمیر کی طرح عوام کو خوبصورت وادیوں کی سیر کے کتنے مواقع فراہم کئے ہیں اور بنگال کی طرح کس حد تک سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے ۔ یو پی کے عوام کو فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت سے کارکردگی کی رپورٹ طلب کرنی چاہئے اور جذباتیت کا شکار ہونے سے گریز کرنا چاہئے ۔