کشن باغ میں گردوارہ پربندھک کمیٹی کی دعوت افطار سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال

   

سینکڑوں روزہ داروں کی شرکت، حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے کا عہد
حیدرآباد 9 مارچ (سیاست نیوز) ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے سماج کو مذہب کی بنیاد پر منقسم کرنے کی سازش عروج پر ہے۔ ایسے میں سیکولرازم اور جمہوریت پر یقین رکھنے والی طاقتیں اپنے طور پر اِس بات کی کوشش کررہی ہیں کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رہے۔ رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی ملک اور خاص طور پر تلنگانہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کی مثالیں دیکھی جارہی ہیں۔ غیر مسلم افراد کی جانب سے مسلمانوں کے لئے روزہ کا اہتمام کرتے ہوئے فرقہ پرست طاقتوں کو منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے۔ حیدرآباد کی روایتی گنگا جمنی تہذیب کو پروان چڑھانے کے لئے کشن باغ سکھ چھاؤنی میں واقع برم بالا گردوارہ پربندھک کمیٹی کی جانب سے دعوت افطار کا اہتمام کیا گیا۔ کشن باغ کے 9 نمبر چوراہے پر منعقدہ دعوت افطار میں مقامی مسلم عوامی نمائندوں کے علاوہ روزہ داروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور گردوارہ پربندھک کمیٹی کے جذبۂ خیرسگالی کو سراہا۔ پربندھک کمیٹی کے ذمہ داروں کی جانب سے گزشتہ کئی برسوں سے دعوت افطار کی روایت کو برقرار رکھا گیا ہے۔ کمیٹی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک بھائی چارہ کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ ہے۔ اِس روحانی اور متبرک مہینہ میں مسلمان خصوصی عبادتوں میں مصروف رہتے ہیں، اُن کے لئے افطار کا اہتمام کرنا پربندھک کمیٹی کے لئے باعث افتخار ہے۔ گزشتہ 35 برسوں سے علاقہ میں تمام مذاہب کے افراد باہم شیر و شکر زندگی بسر کررہے ہیں۔ کمیٹی کے ذمہ داروں نے کہاکہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور عوام کی بھلائی کے لئے خصوصی دُعاؤں کی ضرورت ہے۔ مسلم مقامی عوامی نمائندوں نے دعوت افطار کے اہتمام پر سکھ برادری سے اظہار تشکر کیا اور کہاکہ ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کے لئے حیدرآباد سے یہ پیام جائے گا کہ عوام باہم متحد ہیں۔ پربندھک کمیٹی کے ذمہ داروں نے کہاکہ گرو نانک نے امن اور آشتی کا پیام دیا ہے اور اُن کی تعلیمات میں تمام مذاہب کے احترام کی تلقین کی گئی ہے۔ مقامی افراد نوازالدین، محمد طاہر، محمد شکیل، محمد عزیز نے گردوارہ پربندھک کمیٹی سے اظہار تشکر کیا۔ سلیمان نگر راجندر نگر اور اطراف کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے روزہ داروں نے شرکت کی۔ 1