کم بارش کا اثر ، ترکاری کی کاشت میں نمایاں گراوٹ

   

کسان پریشان ، مہنگائی میں اضافہ کا اندیشہ ، عوام کو مشکلات
حیدرآباد۔15 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ترکاری کی کاشت میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی جار ہی ہے۔ریاست میں موسمی تبدیلی اور ایل نینو کے اثر کے نتیجہ میں بارش کی کمی سے سال گذشتہ کے مقابلہ جاریہ سال کے دوران ترکاریوں کی کاشت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ باغبانی کی جانب سے فراہم کی جانے والی تفصیلات کے مطابق سال گذشتہ 11لاکھ 24ہزار 1ایکڑ پر ترکاریوں کی کاشت ہوئی تھی لیکن جاریہ سال کے دوران یہ کاشت محض 9لاکھ 51 ہزار 134 ایکڑ پر ہوپائی ہے ۔بتایاجاتاہے کہ سال گذشتہ کے مقابلہ میں 1لاکھ72ہزار 867 ایکڑ پر ترکاریوں کی کاشت نہیں ہوپائی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ترکاریوں کے علاوہ جاریہ سال کے دوران ہلدی ‘ مرچی اور دیگر ترکاری و پھلوں کی کاشت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جار ہی ہے۔محکمہ باغبانی کے عہدیداروں کے مطابق ریاست میں 2023 کے مقابلہ میں 2025 میں ترکاریوں کی کاشت میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی لیکن اب اس میں مزید گراوٹ کے نتیجہ میں تشویشناک صورتحال پیدا ہونے لگی ہے۔ سال 2023 میں 12لاکھ 3ہزار380 ایکڑ پر ترکاریوں اور دیگر اشیاء کی کاشت ہوئی تھی لیکن سال 2024 میں اس میں گراوٹ کے بعد 11لاکھ 39ہزار832 ایکڑ پر ترکاریوں کی کاشت ہوئی تھی۔2025 میں 11لاکھ 4ہزار1 ایکڑ پر ترکاریوں کی کاشت ہوئی تھی لیکن جاریہ سال اس میں مزید گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ریاست میں ترکاریوں کی کاشت و باغبانی پیداوار کے لئے اپریل تا جولائی کا موسم ہوا کرتا ہے اور اس موسم کے دوران ناکافی بارشوں کے نتیجہ میں کسانوں اور کاشتکاروں کی جانب سے متبادل کاشت کے متعلق منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ 53 ہزار 405 ایکڑ اراضی پر ٹماٹر ‘ بھینڈی اور دیگر ترکاریوں کی جو کاشت ہوا کرتی تھی جاریہ سال کے دوران یہ 19ہزار259 ایکڑ تک محدود ہوچکی ہے ۔ بتایاجاتاہے کہ مذکورہ ترکاریوں کی کاشت مجموعی طور پر 34ہزار 146 ایکڑ کم ہوئی ہے ۔ 1لاکھ81ہزار 735ایکڑ پر ہونے والی ہلدی ‘ مرچی ‘ ادرک ‘ لہسن اور پیاز کی کاشت جاریہ موسم کے دوران 41ہزار395 ایکڑ پر محدود ہوچکی ہے اور اس میں مجموعی طور پر 1لاکھ40ہزار340 ایکڑ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔سال گذشتہ آم ‘ جام‘ لیمو اور انار تلنگانہ میں 4لاکھ52ہزار 921ایکڑ پر کاشت کی گئی تھی جبکہ جاریہ سال اس میں معمولی کمی ریکارڈ کئے جانے کے بعد 4لاکھ 52ہزار104 ایکڑ پر یہ کاشت کی گئی ۔ اس کے برعکس ریاست بھر میں پام کی پیداوار اور کاشت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے جو کہ سال گذشتہ 3لاکھ10ہزار776 ایکڑ پر پیداوار کی گئی تھی اس میں 9335ایکڑ کے اضافہ کے ساتھ پام کی کاشت 3لاکھ 20ہزار111 ایکڑ تک پہنچ چکی ہے۔3/k/b