کورونا وائرس کا عید الاضحی پر بھی اثر

,

   

بکروں کے خریدار نہیں ، مالکان بے چین،بازار سنسان
نئی دہلی : عالمی وباء کورونا وائرس نے زندگی کے تمام شعبوں پر اثر ڈالا ہے ۔ مسلمانوں کے لیے مقدس ماہ رمضان اور عید الفطر اسی مدت میں گذر گئی اور اب 70 یوم بعد عید الاضحی پر بھی کوویڈ ۔ 19 کے اثرات نظر آنے لگے ہیں ۔ اترپردیش سے جانور بالخصوص بکرے لے کر دھنگر اور ان کے مالکین آس پاس کی ریاستوں کو جاتے ہیں ۔ یہ ان کا سالانہ معمول ہے لیکن بریلی کے متوطن شکیل خان کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ سارا ماحول پھیکا پھیکا سا ہے ۔ عید کے لیے ایک ہفتہ رہ گیا ہے لیکن دہلی کی مشہور مارکٹ میں جانوروں کے خریدار ندارد ہیں ۔ 22 سالہ شکیل کے پاس جمع پونجی تیزی سے ختم ہورہی ہے اس کے لیے اپنے وطن سے دور زندگی گذارنا مشکل ہورہا ہے کیوں کہ کاروبار میں مندی پڑی ہوئی ہے ۔ شکیل کے آجر نے بکروں کی جوڑی کے لیے 30 ہزار روپئے کی رقم طئے کی ہے ۔ شکیل کے مطابق یہ واجبی رقم ہے لیکن شائد لوگوں کے پاس معاشی تنگی چل رہی ہے جس کا بنیادی سبب کورونا وائرس ہے ۔ اس لیے لوگ بڑی کفایت شعاری سے رقم خرچ کررہے ہیں ۔ ایک خاتون اور اس کی بہو بکرے کی خریداری کے لیے پرانی دہلی کے فلمستان علاقے سے مارکٹ پہونچے ، انہوں نے بتایا کہ گذشتہ سال 15 ہزار روپئے میں انہیں بکرا ملا تھا ۔ اس سال ان کے پاس صرف 10 ہزار روپئے ہیں اور اتنی قیمت میں بکرا خریدا بہت مشکل ہورہا ہے ۔عام طور پر محمد اظہارقربانی کے موقع پر 15 تا 20 بکرے فروخت کردیا کرتا تھا ۔ اس مرتبہ وہ محض ایک جوڑی فروخت کرپایا ہے اور اس میں بھی اسے نقصان ہوا ۔ مختصر یہ کہ مارکٹ میں عمومی طور پر یہی صورتحال ہے اور بکروں کے مالکین پریشان ہیں کیوں کہ انہیں فائدہ کے بجائے اُلٹا نقصان ہورہا ہے ۔ ۔