کورونا کی تیسری لہر سے نمٹنے گاندھی ہاسپٹل میں تیاریاں

   

مریضوں کی تعداد میں آئندہ دنوں میں اضافہ کے اندیشے
حیدرآباد 8 جنوری ( سیاست نیوز ) اومی کرون ویرینٹ کی وجہ سے کورونا کیسوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور سابقہ دو لہروں میں کورونا مریضوں کے علاج کیلئے مختص گاندھی ہاسپٹل کو چوکس کردیا گیا ہے ۔ یہاں کورونا کے علاج کی تیاریاں بھی مکمل کرلی گئی ہیں۔ حالانکہ محکمہ صحت کا یہ تاثر ہے کہ اومی کرون کی وجہ سے ہونے والے کورونا میں دواخانہ میں شریک کرنے نوبت کم آئے گی تاہم گاندھی ہاسپٹل کے حکام کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے ۔ چونکہ سابقہ دو لہروں میں گاندھی ہاسپٹل میں انتہائی نازک حالت والے مریضوں کا علاج بھی کیا گیا ہے ایسے میں انتظامیہ کا قیاس ہے کہ دواخانہ میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا ۔ خاص طور پر اومی کرون متاثرین کی زیادہ تعداد یہاں آئے گی ۔ اس کے نتیجہ میں دواخانہ میں تمام تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ گذشتہ چند ہفتوں سے انتہائی نگہداشت کی حفظان صحت کی خدمات کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے ۔ سپرنٹنڈنٹ گاندھی ہاسپٹل ڈاکٹر ایم راجہ راؤ نے کہا کہ ہر ایک کو امید ہے کہ اومی کرون کم شدت والا ہوگا ‘ تاہم ہمارے تجربہ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہر مریض میںصورتحال مختلف ہوگی ۔ فی الحال ہم یہ قیاس کرتے ہوئے تلنگانہ میں یہ لہر زیادہ شدت والی نہیں ہوگی ۔ گذشتہ دو لہروں میں ہم نے دیکھا کہ صحتمند افراد بھی کورونا کی وجہ سے فوت ہوگئے اور 100 سالہ معمر مریض صحتیاب ہوئے ۔ گاندھی ہاسپٹل کو ملٹی اسپیشالیٹی موقف بھی دیا گیا ہے اور یہاں کئی شعبے کام کر رہے ہیں۔ دواخانہ میں آئی سی یو کی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ سابقہ دو لہروں میں انہیں کافی تجربہ ہوا ہے اور وہ اور دواخانہ کا دوسرا عملہ اومی کرون کی وجہ سے ہونے والی تیسری لہر کا سامنا کرنے تیار ہے ۔