نائب صدرنشین اور وہپس کے عہدے بھی خالی، ٹی آر ایس ارکان کونسل کی سرگرمیاں تیز
حیدرآباد۔16۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں ایم ایل اے اور مجالس مقامی کے زمرہ کی نشستوں پر انتخابات کی تکمیل کے ساتھ ہی کونسل کے اہم عہدوں کیلئے قائدین کی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ صدرنشین ، نائب صدرنشین ، گورنمنٹ چیف وہپ اور تین دیگر وہپس کے عہدہ مخلوعہ ہیں جس کیلئے ٹی آر ایس کے ارکان کونسل نے بڑے پیمانہ پر پیروی شروع کردی ہے ۔ حال ہی میں ایم ایل اے زمرہ کی 6 اور مجالس مقامی زمرہ کی 12 نشستوں پر انتخابات مکمل ہوئے اور تمام پر ٹی آر ایس کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ۔ گورنر کوٹہ کے تحت ایک رکن کی نامزدگی کے بعد کونسل میں ٹی آر ایس کے جملہ 19 نئے ارکان شامل ہوئے ہیں۔ 40 رکنی کونسل میں ٹی آر ایس ارکان کی تعداد 36 ہوچکی ہے ۔ مجلس کے 2 ، کانگریس اور آزاد کے ایک ایک رکن شامل ہیں۔ کونسل کے صدرنشین کے عہدہ کیلئے دو اہم دعویدار ہیں۔ کونسل کے سابق صدرنشین جی سکھیندر ریڈی اور اسمبلی کے سابق اسپیکر مدھو سدن چاری میں سے کسی ایک کو صدرنشین کا عہدہ ملنے کا امکان ہے۔ سکھیندر ریڈی جن کی میعاد جون میں ختم ہوئی تھی، وہ ایم ایل اے کوٹہ کے تحت دوبارہ نامزد کئے گئے جبکہ مدھو سدن چاری کو گورنر کوٹہ کے تحت کونسل کا رکن مقرر کیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے کونسل کی صدارت کے لئے دونوں قائدین سے وعدہ کیا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ قطعی فیصلہ کس کے حق میں آئے گا۔ امکان ہے کہ چیف منسٹر دونوں اہم دعویداروں کو صدرنشین اور نائب صدرنشین کے عہدوں پر فائز کریں گے۔ جون میں کونسل کے نائب صدرنشین این ودیا ساگر اور چیف وہپ بی وینکٹیشورلو کی میعاد بھی ختم ہوچکی ہے۔ ان دونوں کو دوبارہ رکنیت نہیں دی گئی ۔ گورنمنٹ وہپ کے پربھاکر کی میعاد گزشتہ سال مارچ میں ختم ہوچکی ہے جبکہ مزید دونوں وہپس دامودر ریڈی اور بھانو پرساد مجالس مقامی زمرہ سے دوبارہ منتخب ہوئے ہیں۔ کونسل نے گورنمنٹ وہپ کی حیثیت سے ایم ایس پربھاکر برقرار ہیں۔ کونسل کے موجودہ عبوری صدرنشین بھوپال ریڈی کی میعاد 4 جنوری کو ختم ہورہی ہے۔ر