کمشنر کھمم کو 6 نومبر تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
حیدرآباد: ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے کمشنر کھمم تفسیر اقبال کو ہدایت دی ہے کہ 13 سالہ لڑکی کی آجر کی جانب سے عصمت ریزی اور قتل کی کوشش کے معاملہ میں 6 نومبر تک رپورٹ پیش کریں۔ انسانی حقوق کمیشن نے نابالغ لڑکی پر ظلم سے متعلق میڈیا کی خبروں پر از خود کارروائی کرتے ہوئے کمشنر کھمم سے رپورٹ طلب کی ہے ۔ کمیشن نے کھمم کے خانگی ہاسپٹل کے رویہ پر بھی سخت اعتراض کیا جہاں 18 ستمبر سے لڑکی زیر علاج تھی لیکن ہاسپٹل کی جانب سے پولیس یا متاثرہ لڑکی کے افراد خاندان کو اطلاع نہیں دی گئی۔ کمیشن نے 6 نومبر کو سماعت مقرر کی ہے۔ اسی دوران کھمم پولیس نے ملزم کو گرفتار کرتے ہوئے مقامی مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا جہاں عدالتی تحویل میں دیا گیا۔ 26 سالہ ملزم نے لڑکی کی عصمت ریزی کی کوشش کی لیکن مزاحمت کرنے پر پٹرول ڈال کر زندہ جلانے کی کوشش کی گئی۔ لڑکی کو مقامی خانگی ہاسپٹل میں شریک کیا گیا جہاں پیر تک اس کا علاج جاری رہا۔ پولیس کی درخواست پر ضلع کلکٹر نے متاثر لڑکی کو بہتر علاج کے لئے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل منتقل کیا ہے۔ کھمم کی اپوزیشن جماعتوں نے پولیس اور حکومت کے رویہ پر تنقید کی اور متاثرہ لڑکی کا کارپوریٹ ہاسپٹل میں علاج کرانے کا مطالبہ کیا۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے متاثرہ لڑکی کے افراد خاندان سے ملاقات کی اور انصاف دلانے کا تیقن دیا ۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے دو ہفتہ بعد پولیس ہوش میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسر اقتدار پارٹی کی جانب سے ملزم کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بھٹی وکرمارکا نے تلنگانہ میں خواتین میں مظالم کے واقعات میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حال ہی میں معین آباد میں اقلیتی طبقہ کی کمسن لڑکی کے ساتھ عصمت ریزی اور قتل کا واقعہ پیش آیا ہے۔ ٹی آر ایس کے مقامی قائد اس واقعہ کے اصل خاطی ہیں لیکن انہیں بچانے کیلئے کمزور دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔