ممبئی، 23اپریل (یو این آئی) برصغیر کی فلمی موسیقی کی تاریخ میں کچھ آوازیں ایسی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود اپنی تازگی اور دلکشی برقرار رکھتی ہیں۔ شمشاد بیگم انہی عظیم گلوکاراؤں میں شامل ہیں جن کی آواز نے ایک پورے عہد کو اپنی گرفت میں لیا۔ ان کی منفرد اور پُراثر آواز نے نہ صرف فلمی گیتوں کو نئی پہچان دی بلکہ سننے والوں کے دلوں میں بھی ایک خاص مقام بنایا۔ شمشاد بیگم کا موسیقی سے رشتہ بچپن ہی سے جڑ گیا تھا۔ سادہ مزاج اور فطری صلاحیتوں کی حامل اس فنکارہ نے اپنی محنت اور لگن سے وہ مقام حاصل کیا جس کا خواب ہر گلوکار دیکھتا ہے ۔ ریڈیو سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والی شمشاد بیگم جلد ہی فلمی دنیا کا ایک نمایاں نام بن گئیں۔ ان کی آواز میں ایک خاص طرح کی کھنک اور مٹھاس تھی جو سننے والے کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گائے ہوئے گانے آج بھی اتنے ہی مقبول ہیں جتنے اپنے دور میں تھے ۔ ’’کبھی آر کبھی پار‘‘، میں’بڑی مشکل سے دل کی بے قراری کو قرار آیا، ’’لے کے پہلا پہلا پیار‘‘ اور ’’کجرا محبت والا‘‘ جیسے گیت آج بھی سامعین کے دلوں میں زندہ ہیں۔ شمشاد بیگم کی پیدایش 14 اپریل 1919 کو پنجاب کے شہر امرتسر میں ہوئی۔ اس دور میں جب بھی بھونپو یا گراموفون سے کوئی آواز سنائی دیتی تو شمشاد اسے گانے لگتیں یہی ان کی ریاضت اور موسیقی کی ابتدائی تربیت تھی۔ موسیقار ماسٹر غلام حیدر نے جب ان کی آواز سنی تو محض 13 سال کی عمر میں انہیں پنجابی گیت ’’ہتھ جوڑیاں پنکھیاں دے ‘‘ میں گانے کا موقع دیا ۔ اس دور میں انہیں فی گیت ساڑھے بارہ روپے ملا کرتے تھے ۔ان کی آواز میں ایک خاص قسم کی کھنک اور جادو تھا، جو سننے والوں کو مسحور کر دیتا تھا۔