کیا لیسیسٹر، کشمیر میں اقلیت پر حملہ کاری پلے ہے؟

   


تشدد، ہندوؤں کو خوفزدہ کرنے ایک بڑے پلانے کا حصہ، ماہرین

نئی دہلی ۔ 24 ستمبر ۔ لیسیسٹر میں بکھرے ہوئے ہندوستانیوں نے اس بات پر ناراضگی اور احساس خوف کا اظہار کیا کہ کافی تعداد میں برٹش انڈین سیاستدانوں نے ان کے شہر میں ہندوؤں کے خلاف ہوئے تشدد کی کھلم کھلا مذمت نہیں کی۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ لیسیسٹر تشدد، یوکے کے دوسرے ٹاؤنس میں ہندوؤں کو خوفزدہ کرنے کیلئے ایک بڑے منصوبہ کا حصہ ہے۔ ہندو اسکالر اور یوگا چاریہ ستیش کمار شرما نے کہا کہ ’’ہم کشمیر سے نسلی طور پر ہندوؤں کے صفایا کیلئے استعمال کی گئی حکمت عملی دیکھ رہے ہیں اور اب اسے یوکے کے حصوں میں اپنایا جارہا ہے۔ کسی بھی ہندو کو اس پر ہندوتوا فاشسٹ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے آسانی سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے‘‘۔ اس کی توثیق ریسرچر اور یوکے حکومت کے لئے سابق کاونٹر۔ ایکسٹریمیزم کوآرڈینیٹر چارلوٹ لٹل ووڈ نے کی جنہوں نے کہا کہ ’’اسلامی انتہاء پسندی پر اثرانداز ہونے والے سوشل میڈیا کے ذریعہ سینکڑوں کی تعداد میں ہجوم جمع کررہے ہیں اور ان کی کوشش یہ ہیکہ لیسیسٹر کے ہندوؤں کا صفایا کیا جائے۔ آج خانگی سوشل میڈیا کا گہرائی سے جائزہ لینے پر یہ بات صاف ہوگئی ہے‘‘۔ لندن کے ایک برٹش ہندو جہدکار نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کے گروپس ہندوؤں کے مکانات کے سامنے ٹھہر کر انہیں لیسیسٹر کے باہر کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ برٹش کے ہندو، ہندوؤں اور مذہبی نشانات پر حملوں میں ایک انداز دیکھتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ برطانیہ میں اسلامی گروپس نے منادر کی ایک فہرست بنائی ہے جہاں وہ احتجاجی مظاہرے کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ لیسیسٹر میں ہندوؤں کے خلاف تشدد اور برمنگھم میں ایک مندر پر حملہ کے تقریباً تین ہفتوں بعد جمعرات کو لندن میں انڈین ہائی کمیشن کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جہاں ایک حامی اسلامسٹ گروپ ساؤتھ ایشیاء سولیڈاریٹی نے شام میں ایک احتجاج کرنے کی اپیل کی۔ ’’لیسیسٹر: ایمرجنسی پروٹسٹ کیلئے اپیل سے یہ خوف پیدا ہوگیا کہ اس سے تشدد ہوسکتا ہے جیسا کہ 2019ء میں پاکستانیوں اور خالصتانیوں کی جانب سے یوم آزادی تقریب منانے والے ہندوستانیوں کو زخمی کرنے کے بعد دیکھا گیا تھا جس میں منجمد پانی کے باٹلس، ٹماٹر اور انڈے پھینکے گئے تھے۔
اس دوران وزیرخارجہ امور ایس جئے شنکر نے جو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کیلئے نیویارک میں ہیں، ٹوئیٹ کیا کہ انہوں نے برطانیہ کے عہدیداروں کے ساتھ لیسیسٹر تشدد کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے برطانیہ کے فارن سکریٹری جیمس کلیورلی سے ملاقات کرکے مختلف مسائل پر بات چیت کی۔ انہوں نے یوکے میں ہندوستانی کمیونٹی کی سیکوریٹی اور فلاح و بہبود کا تیقن دیا۔ فینانشیل ٹائمز کے سابق کالم نگار الپیش پٹیل نے بتایا کہ یوکے میں کمینوٹیز کو ’’زیادہ عزت اور لا اینڈ آرڈر کی ضرورت ہے‘‘۔
لیسیسٹر میں ہوئے تشدد سے دنیا بھر میں گروپس میں تشویش کی لہر پیدا ہوگئی جنہوں نے ان کے برادری کے افراد سے اظہاریگانگت کرتے ہوئے پیامات روانہ کئے۔ لیسیسٹر میں پولیس نے 47 افراد کو گرفتار کرتے ہوئے حالات پر قابو پایا۔