میدک اور پڑوسی ریاست مہاراشٹرا کے ناندیڑ سے قسمت آزمائی کی قیاس آرائیاں
حیدرآباد۔21۔ مئی ۔(سیاست نیوز) کے سی آرآئندہ لوک سبھا انتخابات میں حصہ لیں گے! تلنگانہ راشٹر سمیتی کو بھارت راشٹر سمیتی میں تبدیل کئے جانے کے بعد سیاسی تبدیلیوں اور سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے کہا کہ جا رہاہے کہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کو اقتدارحاصل ہونے کی صورت میں اس کے بعد ہونے جارہے لوک سبھا انتخابات میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پارلیمانی حلقہ میدک اور پڑوسی ریاست مہاراشٹرا کے پارلیمانی حلقہ ناندیڑ سے امیدوار ہوں گے ۔بی آر ایس کے قیام کے بعدمہاراشٹرا بالخصوص ناندیڑ میںکے سی آر اور بی آر ایس کی سرگرمیوں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے کہا جار ہاہے کہ وہ میدک اور ناندیڑ دونوں حلقہ جات پارلیمان سے مقابلہ کا منصوبہ تیار کر رہے ہیں اوروہ پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے بھارت راشٹرسمیتی کو قومی سطح پر سرگرم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ کے سی آر ناندیڑ حلقہ سے مقابلہ کرکے اطراف کے حلقہ جات پارلیمان میں اپنے امیدواروں کو تقویت پہنچانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ناندیڑحلقہ جہاں سے اب تک صرف کانگریس یا بی جے پی امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اب بی جے پی رکن پارلیمنٹ ہیں اس نشست پر کے سی آر کے مقابلہ کے متعلق کہا جار ہاہے کہ انہیں دیگر جماعتوں کی تائید بھی حاصل ہوگی ۔ کے سی آر کے میدک سے مقابلہ کی صورت میں کامیابی کو یقینی قراردیا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ اگر وہ دونوں نشستوں سے کامیاب ہوتے ہیںتو وہ میدک کی نشست سے مستعفی ہوجائیں گے اور ناندیڑ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے برقرار رہیں گے۔بھارت راشٹرسمیتی کے ان منصوبوں کے متعلق مبصرین کا کہناہے کہ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد ہی بی آر ایس اپنے قومی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے موقف میں ہوگی ۔م