کے سی آر کالیشورم کمیشن کے روبرو حاضر ہوئے

   

50 منٹ میں 18 سوالات کے جواب دیئے ، آبپاشی پراجکٹ کے دستاویزات بھی حوالے

حیدرآباد۔ 11 جون (سیاست نیوز) سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے کالیشورم کمیشن کی پوچھ تاچھ 50 منٹ تک جاری رہی۔ کمیشن کے صدرنشین پی سی گھوش کی جانب سے پوچھے گئے 18 سوالات کا کے سی آر نے جواب دیا اور ساتھ ہی کالیشورم پراجیکٹ سے متعلق چند دستاویزات اور پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پین ڈرائیو میں پیش کیا۔ پوچھ گچھ کے بعد کے سی آر، بی آر کے بھون سے باہر نکلتے وقت اپنی پارٹی کے قائدین اور حامی جب نعرے لگا رہے تھے تو ہاتھ ہلاکر جواب دیا اور پھر وہاں سے یشودھا ہاسپٹل پہنچے۔ پارٹی کے رکن اسمبلی کے پی راجیشور ریڈی کی عیادت کی جو کے سی آر کے فارم ہاؤز میں پھسل کر گرگئے تھے۔ آج صبح 9 بجے کے سی آر اپنے فارم ہاؤز ایرا ولی ضلع سدی پیٹ سے حیدرآباد پہنچے۔ اُن کے ہمراہ ہریش راؤ، سنتوش کمار کے علاوہ دوسرے موجود تھے۔ بی آر کے بھون کے پاس کے ٹی آر پہلے ہی سے پارٹی کے ارکان اسمبلی، قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مدھوسدن چاری ، ارکان اسمبلی وی پرشانت ریڈی ، پدما راؤ گوڑ، سابق وزیر محمد محمود علی کے علاوہ بڑی تعداد میں کارکن موجود تھے۔ جیسے ہی کے سی آر کالیشورم کمیشن کے سامنے حاضر ہوئے، انہوں نے کہا کہ میری صحت ناساز ہے، جس کے بعد کمیشن نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے اوپن کورٹ کے بجائے بند کمرے میں سابق چیف منسٹر سے پوچھ تاچھ کی۔ ابھی تک کمیشن نے 114 افراد سے پوچھ تاچھ کرلی ہے۔ 115 ویں گواہ کے طور پر کے سی آر کمیشن کے سامنے حاضر ہوئے تھے۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کمیشن نے کالیشورم پراجیکٹ کی تعمیر، کارپوریشن کی تشکیل، تکنیکی رپورٹ اور کابینی منظوری کے علاوہ دیگر سوالات کئے۔ کے سی آر نے انہیں بتایا کہ ہر فیصلہ کابینہ کی منظوری سے لیا گیا۔ تلنگانہ کے زرعی شعبہ اور پینے کے پانی کیلئے کالیشورم پراجیکٹ اہم پراجیکٹ ہے۔ تلنگانہ کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا لفٹ اریگیشن پراجیکٹ ریکارڈ مدت میں تعمیر کیا گیا۔ کابینہ اور حکومت کی منظوری سے ہی تعمیراتی کام انجام دیئے گئے۔ ویاس کوس کی سفارشات کو اہمیت دی گئی ہے۔ پراجیکٹ کی تعمیر سے قبل تمام منظوریاں حاصل کی گئیں۔ اس کے تمام دستاویزات کو کے سی آر نے کمیشن کے سامنے رکھا۔ کالیشورم کمیشن تشکیل دینے اور قرض حاصل کرنے کے بارے میں بھی سوالات کئے گئے۔ کے سی آر نے کہا کہ نئی ریاست تلنگانہ قائم کی گئی تھی، فنڈس کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کارپوریشن کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ پراجیکٹ کی تعمیرات میں تیزی پیدا کرنے کیلئے یہ فیصلہ کیا گیا۔ بیاریجس میں پانی کو جمع کرنے کے بارے میں کمیشن نے کے سی آر سے سوالات پوچھے جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیاریجس میں کتنا پانی جمع کرنا ہے، اس کا فیصلہ انجینئرس نے کیا ہے۔ جن مقامات پر بیاریجس تعمیر کئے گئے ہیں، ان کی تبدیلی، ٹیکنیکل مسئلہ ہے، جہاں پانی موجود ہے، وہاں بیاریجس تعمیر کئے گئے۔ کے سی آر نے جی او نمبر 45، آپریشنس اینڈ مینٹننس بک کو کمیشن کے حوالے کیا۔2