چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے بی جے پی سے اختلافات اور الزام تراشیوں کے دوران اب اپنے قومی عزائم کا اعلان کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک میںبی جے پی کے خلاف محاذ آرائی کیلئے ملک کے مختلف قائدین سے ملاقاتیں کرتے ہوئے انہیں ہم خیال بنانے کی کوشش کریں گے ۔ چندر شیکھر راؤ ویسے تو گذشتہ پارلیمانی انتخابات سے قبل بھی اس طرح کے عزائم کے ساتھ سرگرم ہوئے تھے لیکن اس وقت انہیںکوئی کامیابی نہیں مل پائی تھی ۔ چندر شیکھر راؤ ملک میں ایک طرح سے کانگریس اور بی جے پی دونوں کے خلاف محاذ بنانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیںاور وہ چاہتے ہیں کہ دوسری تمام علاقائی جماعتیں ان کی اس کوشش کا حصہ بن جائیں۔ اس سے قبل بھی چندر شیکھر راؤ نے ترنمول کانگریس سربراہ و چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی سے ملاقات کی تھی ۔ ان کی کچھ دوسرے قومی قائدین سے بھی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ اس کے باوجود ماضی میں یہ کوششیں روک دینی پڑی تھیں کیونکہ توقعات کے مطابق کامیابی نہیں مل پائی تھی ۔ اب بھی جبکہ آئندہ پارلیمانی انتخابات کیلئے دو سال کا وقت رہ گیا ہے کچھ جماعتیں چاہتی ہیں کہ ابھی سے تیسرے محاذ کی کوششیں تیز شروع کردی جائیں۔ کچھ جماعتیں چاہتی ہیں کہ بی جے پی مخالف محاذ میں کانگریس کو شامل نہ کیا جائے جبکہ کچھ جماعتوں کا احساس ہے کہ بی جے پی کے خلاف کسی بھی محاذ کی کانگریس کے بغیر تشکیل ممکن نہیں ہے ۔ ایسے میںچندر شیکھر راؤ کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوسکتی ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن چندر شیکھر راؤ نے قومی سیاست میں اہم رول ادا کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ انہوں نے چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن سے ملاقات کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چیف منسٹر مہاراشٹرا ادھو ٹھاکرے سے بات کرچکے ہیں اور ان سے ملاقات کیلئے وہ جلد ہی ممبئی کا دورہ بھی کرنے والے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ملک کے دوسرے قائدین سے بھی ملاقاتیں کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ اس طرح چندر شیکھر راؤ تلنگانہ کی سیاست سے اب قومی سیاست میں سرگرم ہونے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔
کے سی آر کے عزائم کو کچھ بھی ہیں یہ وہی بہتر جانتے ہیں لیکن تیسرے محاذ کی کوششیں آج کے ماحول میں آسان نظر نہیں آتیں۔ علاقائی جماعتیں اپنی اپنی ریاستوں میں طاقتور اور مستحکم ہیں اورکچھ ریاستوں میں بی جے پی کو شکست دینے کے موقف میں بھی ہیں لیکن وہ اپنی اپنی ریاست تک محدود ہیں۔ ان کی قومی سطح پر موجودگی اب بھی پوری نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے سبھی کو اتفاق کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہندی بولنے والی ریاستوںمیں بی جے پی ایک بڑی طاقت ہے ۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بی جے پی کا مقابلہ اب بھی صرف اور صرف کانگریس کے ساتھ ہے ۔ پنجاب میں بھی کانگریس اپنے اقتدار کو بچانے میں کامیاب ہوسکتی ہے ۔ا ترکھنڈ میں کانگریس کو اقتدار ملنے کی پیش قیاسی کی جا رہی ہے ۔ اترپردیش میں پرینکا گاندھی پارٹی کے مردہ وجود میںجان ڈالنے کی کوششیںکر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ملک کی تقریبا تمام ریاستوں میں کانگریس کا وجود ہے ۔ جنوب میں حالانکہ کانگریس کمزور ہے لیکن اس کو بالکل نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ کرناٹک میں بی جے پی کو ٹکر دینے کی صلاحیت آج بھی صرف کانگریس میں ہے ۔ کیرالا میں کانگریس اقتدار کے دعویداروں میں شامل ہے ۔ تلنگانہ ‘ آندھرا اور ٹاملناڈو میں کانگریس کمزور ہے لیکن اس کے وجود سے انکار کی آج بھی گنجائش نہیں ہوسکتی ۔ انتہائی ناگفتہ اور مشکل ترین حالات میں بھی کانگریس کے تعلق سے یہ ایک حقیقت ہے اور اس کو سبھی کو ماننا چاہئے ۔
جہاں تک علاقائی جماعتوں کا سوال ہے تو کئی ریاستوںمیں علاقائی جماعتیں مستحکم ہیں۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس ہے تو یو پی میں سماجوادی پارٹی ہے ۔ دہلی میںعام آدمی پارٹی ہے تو بہار میں آر جے ڈی ہے ۔جھارکھنڈ مکتی مورچہ کہیںہے تو کہیں اور کچھ دوسری جماعتیں ہیں ۔آندھرا پردیش میں وائی ایس آر کانگریس ہے توتلنگانہ میں ٹی آر ایس ہے ۔ غرض یہ کہ ملک کی تقریبا تمام جماعتوں کا کہیں نہ کہیں طاقتور وجود موجود ہے ۔ ایسے میں اگر کے سی آر کو واقعی بی جے پی کے خلاف محاذ آرائی کرنی ہے تو کانگریس کی شمولیت کے ساتھ اپوزیشن اتحاد کے امکان پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے ۔