نئی دہلی : کوویڈ وباء کے دوران گجرات میں 2020 ء اور 2021 ء میں پیش آئی اموات کی حقیقی تعداد کے تعلق سے اکثر و بیشتر سوالات اُٹھائے گئے ہیں لیکن ریاست اور نہ ہی مرکزی حکومت کی جانب سے کوئی سیدھا اور واضح جواب دیا گیا۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2019 ء کے بعد دو متواتر برسوں کے دوران گجرات میں زائداز 1.5 لاکھ افراد نے اپنی جانیں گنوائیں۔ یہ انکشاف نئے انتخابی فہرستوں سے ہوا ہے جو گجرات میں جاریہ انتخابات کے موقع پر جاری کئے گئے ہیں۔ نئے الیکٹورل رولز کے مطابق فہرستوں سے جملہ 1,50,962 ووٹروں کے نام حذف کئے گئے ہیں۔ یہ تبدیلی مختلف زمروں کے تحت ہوئی ہے جیسے ووٹروں کا مرجانا، دیگر مقامات کو منتقل ہوجانا، زائداز ایک مقام پر نام درج ہونا وغیرہ۔ رواں سال کی گئی تنقیح کے دوران معلوم ہوا کہ ووٹروں کے ناموں کو حذف کرنے کی وجہ اِس کے سوا شائد ہی کچھ اور رہی ہے کہ متعلقہ افراد کی موت ہوگئی اور اِس طرح کے ووٹرس کی تعداد ہر سال عام وجوہات کی بناء حذف کئے جانے والے ووٹروں کی تعداد سے کم از کم تین گنا ہے۔ نئی انتخابی فہرستوں سے انکشاف ہوا کہ 1,50,962 ووٹروں کے نام اُن کی موت کے سبب حذف کئے گئے ہیں۔ گجرات میں جملہ 33 اضلاع ہیں جن میں سے صرف احمدآباد میں ہی 9,547 ناموں کو حذف کیا گیا جبکہ ضلع ماہی ساگر میں 1,736 ووٹروں کے نام حذف کئے گئے جو اقل ترین تعداد ہے۔ حیرت ہے کہ ہر ضلع میں 2019 ء کے مقابل زیادہ ووٹرس کے نام حذف کئے گئے ہیں۔ اِن اعداد و شمار کی روشنی میں یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ووٹروں کی موت کے لئے کورونا وائرس بڑی وجہ رہی اور خاص طور پر وباء پھوٹ پڑنے کے بعد والے دو متواتر برسوں میں اموات زیادہ ہوئی ہیں۔ کورونا کے علاوہ دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں لیکن 2020 ء اور 2021 ء میں موت کے سبب ووٹرس کے نام حذف کئے جانے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اموات عالمی وباء کے سبب ہوئیں۔ ضلع جوناگڑھ میں جملہ 4,096 نام حذف کئے گئے جبکہ 2019 ء میں یہی تعداد 1,231 تھی۔