دلت بندھو اسکیم کا دوسرا مرحلہ زیر التواء، مکانات کی تعمیر پر امداد اور جنگلاتی اراضی کی تقسیم کیلئے عہدیداروں کو ہدایات بے اثر
حیدرآباد۔/17 مئی، ( سیاست نیوز) کے سی آر حکومت نے انتخابات سے قبل مختلف طبقات کو مطمئن کرنے کیلئے دو ماہ قبل کابینہ میں بعض اہم فیصلے کئے تھے لیکن نظم و نسق کی جانب سے وعدوں پر عمل آوری نہیں ہوسکی۔ بتایا جاتا ہے کہ دو ماہ قبل کابینی اجلاس میں حکومت نے چار اہم فیصلے کئے تھے جن پر عمل آوری کیلئے چیف سکریٹری شانتی کماری کو ہدایت دی گئی تھی لیکن معاشی کمزور صورتحال کا بہانہ بناکر چاروں فیصلوں پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ 8 مارچ کو کئے گئے فیصلے کے مطابق دلت بندھو اسکیم کے دوسرے مرحلے میں 118 اسمبلی حلقہ جات میں 1.3 لاکھ استفادہ کنندگان کا انتخاب کیا جائے گا۔ اسکیم کے تحت ہر دلت خاندان کو 10 لاکھ روپئے کی امداد دی جائے گی۔ کابینہ نے گروہا لکشمی اسکیم کے تحت غریبوں کو اپنی ذاتی اراضی پر مکانات کی تعمیر کیلئے 3 لاکھ روپئے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت 3.57 لاکھ استفادہ کنندگان کی جانچ کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ بھیڑ بکریوں کی تقسیم اور 1.55 لاکھ قبائیلی خاندانوں میں جنگلاتی اراضی کی تقسیم کا اعلان کیا گیا تھا۔ وزیر فینانس ہریش راؤ نے چیف سکریٹری شانتی کماری اور دیگر عہدیداروں کو اسکیمات پر عمل آوری کی ہدایت دی تھی۔ حکومت کی ہدایت کے باوجود بجٹ کی کمی کا بہانہ بناکر عہدیداروں نے عمل آوری نہیں کی۔ اب جبکہ تلنگانہ ریاستی کابینہ کا اجلاس کل 18 مئی کو طلب کیا گیا ہے، امید کی جارہی ہے کہ چیف منسٹر گذشتہ کابینی فیصلوں پر عمل آوری کی پیشرفت کا جائزہ لیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ گذشتہ کابینہ کے فیصلوں پر عمل آوری کیلئے کے سی آر کیا قدم اٹھائیں گے۔ر