بی آر ایس کس کے ساتھ؟ کل انتخابی مہم کا آخری دن، مرکزی اور ریاستی وزراء کے علاوہ عوامی نمائندے مہم میں مصروف
حیدرآباد۔/23 فروری، ( سیاست نیوز) کریم نگر، میدک، نظام آباد اور عادل آباد اضلاع پر مشتمل گریجویٹ ایم ایل سی نشست کیلئے انتخابی مہم عروج پر پہنچ چکی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان اس نشست پر کانٹے ٹکر ہے اور دونوں پارٹیوں کے اہم قائدین انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے رائے دہندوں سے راست ربط قائم کررہے ہیں۔ تلنگانہ میں کانگریس اقتدار کے ایک سال کی تکمیل کے بعد یہ پہلا الیکشن ہے جس کے نتیجہ میں گریجویٹ ایم ایل سی نشست چیف منسٹر ریونت ریڈی کیلئے وقار کا مسئلہ بن چکی ہے۔ بی جے پی نے بھی اپنی ساری طاقت جھونک دی ہے تاکہ شمالی تلنگانہ میں اپنی برتری ثابت کرسکے۔ کانگریس کی جانب سے ریاستی وزراء، ارکان اسمبلی و کونسل اور سینئر قائدین انتخابی مہم میں مصروف ہیں جبکہ بی جے پی کی انتخابی مہم کی قیادت مرکزی وزراء کشن ریڈی اور بنڈی سنجے کمار کررہے ہیں۔ پارٹی کے تمام ارکان پارلیمنٹ اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ بی آر ایس نے انتخابات سے خود کو دور رکھا ہے جس کے نتیجہ میں یہ تجسس پایا جاتا ہے کہ گریجویٹ رائے دہندوں میں موجود بی آر ایس کے حامی کس کی تائید کریںگے۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں کو یقین ہے کہ انہیں بی آر ایس کے مقابلہ نہ کرنے سے فائدہ ہوگا۔ گریجویٹ حلقہ کے چناؤ میں بی ایس پی اور آل انڈیا فارورڈ بلاک نے بھی اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ انتخابی مہم کا 25 فروری کی شام اختتام عمل میں آئے گا لہذا مہم کیلئے محض دو دن باقی ہیں۔ رائے دہی کی تاریخ جیسے جیسے قریب آرہی ہے کانگریس اور بی جے پی کی انتخابی مہم شدت اختیار کرچکی ہے۔ متحدہ چار اضلاع کے تحت 15 نئے اضلاع ہیں اور 42 اسمبلی حلقہ جات گریجویٹ حلقہ کے تحت آتے ہیں۔ رائے دہندوں کی جملہ تعداد 355159 ہے۔ دونوں پارٹیوں نے اپنے حامیوں کے نام فہرست رائے دہندگان میں شامل کرائے ہیں۔
رائے دہی 27 فروری کو مقرر ہے۔ گریجویٹ حلقہ کیلئے100 امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا تاہم پرچہ جات واپس لینے کی آخری تاریخ کے بعد 56 امیدوار میدان میں ہیں۔ کانگریس نے تعلیمی اداروں کے سربراہ وی نریندر ریڈی کو میدان میں اُتارا ہے جبکہ بی جے پی سے انجی ریڈی امیدوار ہیں جو بزنس مین کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں۔ نریندر ریڈی نے تقریباً 4 ماہ قبل سے اپنی مہم کا آغاز کردیا تھا۔ گریجویٹ نشست پر کانگریس کا قبضہ ہے اور ٹی جیون ریڈی اس حلقہ سے منتخب ہوئے تھے۔ پارٹی نے جیون ریڈی کی جگہ نریندر ریڈی کو ٹکٹ دیا ہے اور دوبارہ نشست کو حاصل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔ بی جے پی نے فرقہ وارانہ ایجنڈہ کو اختیار کیا لیکن تعلیم یافتہ رائے دہندوں کے سبب اسے کوئی خاص ردعمل حاصل نہیں ہوا ہے۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ کے علاوہ ریاستی وزراء دامودھر راج نرسمہا ، اتم کمار ریڈی، سریدھر بابو، پونم پربھاکر، جوپلی کرشنا راؤ، سیتکا اور کونڈا سریکھا انتخابی مہم میں مصروف ہیں اور کانگریس پارٹی نے ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کو منڈل کی سطح پر انچارج مقرر کیا ہے۔ بی جے پی امیدوار انجی ریڈی شہری علاقوں میں زیادہ مصروف ہیں۔ مرکزی وزراء کشن ریڈی اور بنڈی سنجے کمار روزانہ انتخابی جلسوں سے خطاب کررہے ہیں۔ کانگریس کے ٹکٹ سے محروم اسسٹنٹ پروفیسر پرسنا ہری کرشنا بی ایس پی کے ٹکٹ پر مقابلہ کررہے ہیں۔ بی آر ایس کے ٹکٹ کے حصول میں ناکام کریم نگر کے سابق میئر سردار رویندر سنگھ فارورڈ بلاک پارٹی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔ بائیں بازو جماعتوں اور تلنگانہ جنا سمیتی نے کانگریس کی تائید کا فیصلہ کیا ہے۔ حالیہ طبقاتی سروے کے پس منظر میں کانگریس پارٹی کو پسماندہ طبقات کی تائید کا یقین ہے۔ گریجویٹ ایم ایل سی نشست کے نتیجہ سے ریاست میں کانگریس اور بی جے پی کے موقف کا پتہ چل سکتا ہے۔ بی آر ایس نے کسی بھی پارٹی کی تائید کا ابھی تک اعلان نہیں کیا ہے لہذا بی آر ایس کے حامی ووٹرس کا فیصلہ اہمیت کا حامل رہے گا۔1