پارٹی کیڈر خفیہ طور پر پرسنا ہری کرشنا کے حق میں سرگرم
حیدرآباد۔/26 فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں نظام آباد، عادل آباد، کریم نگر اور میدک متحدہ اضلاع پر مشتمل گریجویٹ ایم ایل سی نشست کے انتخابات میں بی آر ایس کے موقف کے بارے میں سیاسی حلقوں میں الجھن پائی جارہی تھی۔ بی آر ایس نے اپنا کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا اور اصل مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ بی آر ایس قائدین نے گذشتہ چند ماہ کے دوران گریجویٹ رائے دہندوں کے ناموں کی شمولیت کی مہم چلائی تھی لیکن پارٹی قیادت نے مقابلہ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے قائدین کو مایوس کردیا۔ رائے دہی سے عین قبل بی آر ایس قائدین نے اپنے کیڈر کو بی ایس پی کے امیدوار پرسنا ہری کرشنا کی تائید کی ترغیب دے رہے ہیں جنہوں نے کانگریس کے ٹکٹ کی کوشش کی تھی اور ناکامی کے بعد بی ایس پی کے ٹکٹ پر مقابلہ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چاروں متحدہ اضلاع میں پارٹی کیڈر کو اندرونی طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ پرسنا ہری کرشنا کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں۔ بی آر ایس کے ارکان اسمبلی اور سابق ارکان اسمبلی کی جانب سے پرسنا ہری کرشنا کی تائید کے واضح طور پر اشارے دیئے جارہے ہیں۔ اسمبلی انتخابات میں چار متحدہ اضلاع کے تحت بی آر ایس کے 18 ارکان اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ پارٹی کے مضبوط موقف کے باوجود قیادت نے کونسل انتخابات سے دوری اختیار کرلی ہے۔ لمحہ آخر میں بی آر ایس کیڈر کو پرسنا ہری کرشنا کے حق میں کام کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ پارٹی قیادت نے کھل کر کسی امیدوار کی تائید نہیں کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گریجویٹس اور ٹیچرس حلقوں میں ایک ووٹ کیلئے تین تا پانچ ہزار روپئے کی پیشکش کی جارہی ہے۔ تینوں حلقہ جات میں بی جے پی امیدواروں کی جانب سے بھاری خرچ کی اطلاع ہے۔1