گریٹر حیدرآباد کے علاوہ مختلف اضلاع میں کورونا کیسوں میں اضافہ

,

   

بنجارہ ہلز کے 7 پولیس ملازمین کورونا کا شکار، ملکاجگیری ، کاما ریڈی و عادل آباد میں تازہ واقعات سے تشویش
حیدرآباد 11 جون (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے مختلف اضلاع میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے۔ شہر کے سرکاری محکمہ جات میں کورونا کے پھیلاؤ میں حکام کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جاریہ ماہ کے اختتام تک ملک بھر میں کورونا متاثرین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے ۔ مانسون کی آمد کورونا کے پھیلاؤ کیلئے معاون بتائی جارہی ہے ۔ موسمی تبدیلی کے ساتھ اکثر لوگ بخار اور سردی کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کیلئے کورونا سے متاثر ہونا آسان ہوجاتا ہے ، لہذا ماہرین کا کہنا ہے کہ مانسون کی آمد کے پیش نظر عوام کو معمولی بخار ، سردی اور زکام پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ اگر کوئی اسے معمولی سمجھ کر گھریلو علاج پر انحصار کرے گا تو یہ فیصلہ نقصان دہ ہوسکتا ہے ۔ دیگر محکمہ جات کے ساتھ محکمہ پولیس میں کورونا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ، اس کے علاوہ ڈاکٹرس اور نیم طبی عملہ میں کورونا کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایرہ گڈہ چیسٹ ہاسپٹل کے دو پروفیسر اور ہاسپٹل کے ایڈمنسٹریٹیو آفیسر میں کورونا کی علامات پائی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق دو پوسٹ گریجویٹس جو چیسٹ ہاسپٹل آؤٹ پیشنٹ بلاک میں خدمات انجام دے رہے تھے، کورونا سے متاثر ہوئے ۔ حالانکہ یہ ڈاکٹرس آئی سی یو میں متعین نہیں تھے، اس کے باوجود ان کا کورونا سے متاثر ہونا دیگر ڈاکٹرس اور نیم طبی عملہ کے لئے تشویش کا باعث بن چکا ہے ۔ دونوں ڈاکٹرس سے ربط میں آنے والے افراد کو ہوم کورنٹائن کیا گیا ہے۔ خیریت آباد اور راجندر نگر سرکل میں تین اور عنبرپیٹ میں 8 افراد میں کورونا کی علامات پائی گئیں۔ ملک پیٹ میں 8 نئے کیسیس منظر عام پر آئے۔ نظام آباد ضلع کے آرمور میں ایک تاجر کو کورونا پازیٹیو نکلنے کے بعد ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا ۔

بنجارہ ہلز پولیس اسٹیشن سے وابستہ 7 ملازمین میں کورونا کی علامات پائی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ 7 ملازمین پولیس میں کورونا کی علامات کے منظر عام پر آنے کے بعد محکمہ پولیس میں سنسنی دوڑ چکی ہے ۔ ملکاجگیری میں کورونا سے متاثرہ تین مریض علاج کے لئے ہاسپٹل سے رجوع کئے گئے۔ نیرڈ میٹ علاقہ سے تعلق رکھنے والے یہ افراد کورونا سے متاثر پائے گئے ۔ اس علاقہ میں پہلے ہی پانچ پازیٹیو کیس منظر عام پر آچکے ہیں۔ کاما ریڈی ضلع میں ایک تاجر کی جانب سے گیٹ ٹو گیدر کا پروگرام شرکت کرنے والوں کیلئے مصیبت بن گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس پروگرام میں شرکت کرنے والے دو افراد میں کورونا کی علامات پائی گئیں۔ ایک کا تعلق آرمور اور دوسرے کا میدک سے ہے۔ تاجر کے افراد خاندان کا معائنہ کیا جارہا ہے تاکہ کورونا کا پتہ چلایا جاسکے۔ افراد خاندان معائنہ کیلئے حیدرآباد روانہ ہوئے جبکہ 4 دوسروں کو ہوم کورنٹائن کیا گیا ۔ متحدہ عادل آباد ضلع میں کورونا کے 124 معاملے منظر عام پر آئے ہیں۔ ان میں سے 90 کو علاج کے بعد ڈسچارج کیا گیا ۔ منچریال کے علاقہ میں سب سے زیادہ 44 کیسیس منظر عام پر آئے ۔