آئندہ ہفتہ ہائی کمان کو ناموں کی سفارش، اقلیت، ایس سی اور اعلیٰ طبقات سے نمائندگی کیلئے دباؤ
حیدرآباد۔ 4 اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں گورنر کوٹہ کی تین ایم ایل سی نشستوں کے امیدواروں کے انتخاب کیلئے کانگریس میں سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ و ریاستی وزراء سے مشاورت کے بعد امکانی امیدواروں کی فہرست تیار کی ہے جو آئندہ ہفتہ ہائی کمان کو روانہ کی جائے گی۔ نومبر میں گورنر کوٹہ کی تین ایم ایل سی نشستیں خالی ہو رہی ہیں اور ان میں طبقاتی نمائندگی کے طور پر ایسے طبقات کو ترجیح دی جاسکتی ہے جنہیں کابینہ میں نمائندگی کم ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سرسلہ کے جلسہ عام میں پدماشالی بی سی طبقہ کو ایک ایم ایل سی نشست الاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ باقی دو نشتوں کیلئے مادیگا اور برہمن طبقات سے نمائندگی کی تیاری کی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق مجالس مقامی کے مجوزہ انتخابات اور آئندہ عام انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اقلیت اور ریڈی طبقات سے کونسل میں نمائندگی کیلئے چیف منسٹر پر دباؤ بنایا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی کارکردگی سے متعلق سروے رپورٹ میں فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کیلئے بجٹ کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں بعض طبقات کی ناراضگی کا معاملہ پر منظر عام پر آیا۔ تلنگانہ اسمبلی میں کانگریس کی جانب سے کوئی مسلم نمائندگی نہیں ہے جبکہ کونسل میں وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین واحد اقلیتی نمائندہ ہیں۔ حیدرآباد، ملکاجگیری اور سائبر آباد کارپوریشنوں کے انتخابات میں اقلیتوں کی تائید حاصل کرنے تین نشستوں میں ایک مسلم اقلیت کو الاٹ کرنے ہائی کمان سے نمائندگی کی گئی۔ بتایا گیا کہ حالیہ دنوں تک تلنگانہ کے بطور انچارج خدمات انجام دینے والی میناکشی نٹراجن نے بھی گورنر کوٹہ میں مسلم نمائندگی میں اضافے کی ہائی کمان سے سفارش کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کونسل کی تینوں نشستوں کے امیدوار کے ناموں کے انتخاب کا اختیار راہول گاندھی کو دیا گیا اور وہ ملکارجن کھرگے سے مشاورت کے بعد منظوری دیں گے۔ اطلاعات کے مطابق ہائی کمان کو مختلف طبقات کے دو یا تین ناموں کی سفارش کی جائے گی۔ اعلیٰ طبقات میں برہمن اور ایس سی میں مادیگا طبقہ کی نمائندگی کے امکانات کے سبب ان طبقات سے وابستہ قائدین نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔ کئی سینئر قائدین کونسل میں نمائندگی کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسمبلی انتخابات میں مختلف وجوہات کے سبب ٹکٹ سے محروم کرکے نامزد عہدوں پر تقررات کا وعدہ کیا گیا تھا۔ مادیگا طبقہ کے اہم دعویداروں میں سابق اے آئی سی سی سکریٹری سمپت کمار نے ہائی کمان تک اپنے نام کی مختلف گوشوں سے سفارش کی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ شہری علاقوں میں بلدی انتخابات کے پیش نظر دلت اور اقلیت کی نمائندگی ضروری ہے کیونکہ شہری علاقوں میں ان طبقات کی تائید کے بغیر کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔ گریٹر حیدرآباد میں کانگریس کو اسمبلی انتخابات میں ایک بھی نشست حاصل نہیں ہوئی اور کمزور طبقات اور اقلیتوں نے بی آر ایس کو ووٹ دیا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ گورنر کوٹہ ایم ایل سی نشستوں کے بارے میں ہائی کمان کیا فیصلہ کرے گا۔ 1؍F