نئی دہلی : جوائنٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹریک کی دیکھ بھال کر رہے ملازمین نے انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کو آگاہ کیا تھا کہ ٹریک میں کچھ پریشانی ہے، لیکن ’کاؤشن‘ جب جاری ہوا تو 2 منٹ پہلے ہی ٹرین نکل چکی تھی۔ اتر پردیش کے گونڈا میں گزشتہ دنوں پیش آئے ٹرین حادثہ میں 4 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس معاملہ میں تحقیقات کے درمیان ایک بڑی لاپروائی کا پتہ چلا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ محض 2 منٹ کی تاخیر کی وجہ سے یہ ٹرین حادثہ ہوا، یعنی تھوڑی چابکدستی کا مظاہرہ کیا گیا ہوتا تو حادثہ کو ٹالا جا سکتا تھا۔ دراصل ’ٹی وی 9 ہندی ڈاٹ کام‘ پر شائع ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ جوائنٹ رپورٹ میں ڈیریلمنٹ سے متعلق کچھ وضاحت پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جس جگہ ٹرین حادثہ ہوا، وہاں ٹریک میں کچھ گڑبڑی تھی۔ یہاں تقریباً 350 میٹر ٹریک ٹوٹی ہوئی تھی اور اسی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ جوائنٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹریک کی نگرانی کر رہے ملازمین نے انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کو ٹریک کی خرابی کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ ریلوے اصول کے مطابق اس طرح کی اگر کوئی جانکاری ٹریک کے رکھ رکھاؤ والا ملازم انجینئرنگ ڈپارمنٹ کو دیتا ہے تو سب سے پہلے ’کاؤشن‘ جاری کیا جاتا ہے۔ ’کاؤشن‘ کا مطلب ہوتا ہے نوٹس لینا، جس کے مطابق اصولوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہی ٹرین کا ٹرانسپورٹیشن کیا جانا چاہیے۔