طلبہ کو حقائق سے واقف کرانے کا مشورہ، اپوزیشن کے دباؤ کے آگے نہ جھکنے کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ یکم اپریل (سیاست نیوز) گچی باؤلی میں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی سے متصل 400 ایکر اراضی کے تنازعہ میں شدت پر چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ریاستی وزراء سے مشاورت کی۔ سپریم کورٹ سے تلنگانہ حکومت کے حق میں فیصلہ کے بعد ریونت ریڈی حکومت نے انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے ذریعہ اراضی کے آکشن کا فیصلہ کیا تاکہ مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کو آکشن کے تحت اراضی فروخت کی جائے۔ بی جے پی، بی آر ایس اور بائیں بازو کی جانب سے اراضی کے حصول کی مخالفت کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے یونیورسٹی کے طلبہ کے احتجاج اور اپوزیشن کی جانب سے بڑھتی مخالفت کے پس منظر میں کمان کنٹرول سنٹر میں ریاستی وزراء سے ملاقات کی اور گچی باؤلی اراضی کے معاملہ کا حل تلاش کرنے پر تجاویز حاصل کیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، ریاستی وزراء سریدھر بابو، جوپلی کرشنا راؤ، ٹی سرینواس ریڈی اور ڈی انوسویا سیتکا شریک تھے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ سیاسی پارٹیوں کی جانب سے طلبہ کے احتجاج کی تائید سے صورتحال کشیدہ ہورہی ہے۔ اُنھوں نے وزراء کو مشورہ دیا کہ وہ اراضی کی ملکیت سے متعلق حقائق کو عوام کے درمیان پیش کریں تاکہ یہ غلط فہمی دور کی جاسکے کہ حکومت یونیورسٹی کی اراضی پر جبراً قبضہ کررہی ہے۔ ریاستی وزراء کو اراضی سے متعلق دستاویزات کی نقل حوالہ کی گئی تاکہ میڈیا کانفرنس میں جاری کرتے ہوئے حقائق پیش کریں۔ چندرابابو نائیڈو اور وائی ایس راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں فیصلوں کے بارے میں دستاویزات وزراء کے حوالہ کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریونت ریڈی نے واضح کیاکہ وہ اپوزیشن کے دباؤ کے آگے ہرگز نہیں جھکیں گے۔ ضرورت پڑنے پر یونیورسٹی طلبہ کو مذاکرات کے لئے مدعو کیا جائے گا۔ بی جے پی کی طلبہ تنظیم بی جے وائی ایم اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیم بھی احتجاج میں شامل ہوچکی ہیں اور روزانہ احتجاج کے نتیجہ میں صورتحال کشیدہ ہورہی ہے۔ حکومت نے یونیورسٹی اور اُس کے اطراف پولیس کی بھاری جمعیت کو تعینات کردیا ہے۔1