گچی باؤلی اراضی معاملہ میں کرایہ کے افرادکے ذریعہ بی آر ایس کا احتجاج

   

بھٹی وکرامارکا کا الزام، 400 ایکر اراضی کے سرکاری ہونے کا دعویٰ
حیدرآباد۔/2اپریل، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ حکومت گچی باؤلی کے سروے نمبر 25 میں اراضی کا تحفظ کررہی ہے تاکہ اسے خانگی اداروں کے ناجائز قبضوں سے بچایا جاسکے۔ ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو اور وزیر مال سرینواس ریڈی کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے اراضی پر حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی ملکیت کے دعویٰ کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اراضی خالص سرکاری ہے جو طویل قانونی جدوجہد کے بعد حاصل کی گئی ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ حکومت نے یونیورسٹی کی ایک انچ اراضی بھی حاصل نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلبہ کے بھیس میں ایسے افراد احتجاج کررہے ہیں جنہیں سیاسی پارٹیوں کی جانب سے کرایہ پر حاصل کیا گیا ہے۔ احتجاجیوں کا طلبہ برادری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کی جانب سے احتجاج کیلئے رقومات ادا کی جارہی ہیں۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ سرکاری اراضی کو ثابت کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے احکامات اور دیگر تمام دستاویزات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی نے حالیہ برسوں میں کبھی بھی اراضی کی ملکیت پر اپنی دعویداری پیش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی جانب سے اراضی تنازعہ کی عاجلانہ یکسوئی کے مطالبہ کے باوجود بی آر ایس حکومت نے اس معاملہ کو نظر انداز کیا۔ سریدھر بابو نے بتایا کہ گذشتہ ہفتہ وائس چانسلر اور رجسٹرار کے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا تھا، ان کی درخواست پر حکومت یونیورسٹی کو ملکیت کا حق منتقل کرنے تیار ہے۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ 400 ایکر اراضی کے بارے میں اپوزیشن کے گمراہ کن پروپگنڈہ کا شکار نہ ہوں۔ کانگریس حکومت نے 21 برس تک سپریم کورٹ میں قانونی جدوجہد کے ذریعہ اراضی کو حاصل کیا۔ 1
بھٹی وکرامارکا کے مطابق فروری 2024 میں یونیورسٹی کو 534.23 ایکر اراضی الاٹ کی گئی تھی اور محکمہ مال کی جانب سے گوپن پلی کے سروے نمبرات 36 اور 37 میں 396.56 ایکر اراضی حوالے کی۔ آنجہانی ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے خانگی کمپنی کو اراضی الاٹمنٹ منسوخ کرتے ہوئے تحفظ کی کارروائی شروع کی تھی۔1