حیدرآباد۔/2 اپریل، ( سیاست نیوز) وزیر ایکسائیز جوپلی کرشنا راؤ نے اپوزیشن پر گچی باؤلی اراضی سے متعلق گمراہ کن پروپگنڈہ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ 400 ایکر اراضی دراصل سرکاری ہے اور اس سے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جوپلی کرشنا راؤ نے دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کنچہ گچی باؤلی کے سروے نمبر 25 کے تحت موجود 400 ایکر اراضی کے حصول کیلئے سپریم کورٹ میں 21 برس تک قانونی جدوجہد کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو حکومت نے یہ اراضی ایک خانگی کمپنی کو حوالے کردی تھی اور وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے فیصلہ کو منسوخ کردیا تھا۔ حکومت کے خلاف خانگی کمپنی سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی اور 21 برس تک قانونی لڑائی کے بعد فیصلہ حکومت کے حق میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی طلبہ کو گمراہ کرتے ہوئے احتجاج پر اکسارہے ہیں۔ 1
انہوں نے کہا کہ حکومت ایک انچ اراضی بھی یونیورسٹی کی حاصل نہیں کررہی ہے اور 400 ایکر پر مختلف اداروں کے قیام کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراضی کے بارے میں طلبہ کو گمراہ کن پروپگنڈہ کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ گذشتہ کئی دہوں سے حیدرآباد اور اس کے اطراف تالابوں اور جھیلوں کی اراضیات پر ناجائز قبضے ہوئے اور ریونت ریڈی حکومت نے ناجائز قبضوں کی برخواستگی کی مساعی شروع کی ہے۔ کرشنا راؤ نے اپوزیشن بی آر ایس اور بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں سے دور کرتے ہوئے احتجاج پر مجبور کیا جارہا ہے۔1