گیانیش کمار سے استعفیٰ کیلئے ملک گیر احتجاجی مظاہرے، کئی مقامات پر مظاہرین زیرحراست

,

   

نئی دہلی، 25 ستمبر (ایجنسیز) چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو کانگریس کی قیادت میں ملک گیر احتجاج کیا گیا۔ کانگریس کارکنوں نے دہلی سمیت مختلف ریاستوں میں الیکشن کمیشن کے دفاتر کی طرف مارچ کیا۔ مظاہرین نے گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) پر آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔ دہلی، جموں، لکھنؤ، کولکاتا، چندی گڑھ، دہرادون، گوہاٹی اور پٹنہ سمیت متعدد مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ کئی مقامات پر مظاہرین نے الیکشن کمیشن کے دفاتر کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے متعدد مقامات پر احتجاجیوں کو روکنے کے لیے بیریکیڈس لگائے۔ دہلی اور بعض دیگر شہروں میں مظاہرین کو حراست میں لئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ پٹنہ، چندی گڑھ اور دیگر مقامات پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے پانی کی توپوں کا استعمال کیا۔ منی پور میں احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ کی بھی اطلاع ملی۔ کچھ مقامات پر مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر کا پتلا نذر آتش کیا۔ کانگریس نے SIR سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر شدید اعتراضات ظاہر کئے ہیں۔ پارٹی نے انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس قائدین کا الزام ہے کہ انتخابی عمل میں شفافیت اور جواب دہی کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ راہول گاندھی سمیت کانگریس کے کئی قائدین نے گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے بعض دیگر قائدین نے بھی SIR کے معاملے پر الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی ہے۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھی دہلی کے احتجاج میں شرکت کی۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن کے ذرائع نے SIR سے متعلق بعض فیصلوں کو کمشنروں کی متفقہ منظوری سے کئے جانے کی وضاحت کی ہے۔ کمیشن کے مطابق داخلی مشاورت میں مختلف آراء سامنے آنا معمول کا حصہ ہے۔ تاہم حتمی احکامات متفقہ طور پر جاری کئے جانے کا الیکشن کمیشن کے ذرائع کا دعویٰ ہے۔ SIR کے طریقہ کار اور انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں پر سیاسی تنازعہ بدستور جاری ہے۔ احتجاج کے دوران کئی ریاستوں میں الیکشن کمیشن کے دفاتر کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے۔ کانگریس نے ملک گیر احتجاج کو انتخابی عمل میں جواب دہی اور شفافیت کے مطالبے سے جوڑا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے SIR کے عمل کا دفاع کئے جانے کے باوجود سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ گیانیش کمار کے خلاف احتجاج اور SIR تنازعہ آئندہ دنوں میں بھی سیاسی بحث کا اہم موضوع رہنے کا امکان ہے۔