ہجومی تشدد : سپریم کورٹ کے حکم پر عمل آوری کی درخواست پر نوٹس جاری

,

   

نئی دہلی ۔ 26 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے جمعہ کے دن ایک درخواست کی بنیاد پر نوٹس جاری کردی جس میں خواہش کی گئی تھی کہ ہجومی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکا جائے جن کا مقصد اقلیتی طبقہ کو ملک میں نشانہ بنانا ہے۔ کئی ہدایتیں عدالت عالیہ میں اپنے 2018ء کے فیصلہ میں جو سابقہ ہجومی تشدد کے سلسلہ میں دیا گیا تھا جاری کی ہیں۔ درخواست بنچ پر جس کی صدارت چیف جسٹس رنجن گوگوئی کررہے ہیں، سماعت کیلئے قبول کرلی گئی ہے ۔درخواست گذار نے ادعا کیا ہیکہ ہجومی تشدد کے واقعات بڑھتے ہی جارہے ہیں خاص طور پر گائے کے تحفظ کی آڑ میں تشدد کی ایسی کارروائیاں بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ برہم ہجوم آخری عدالتی حیثیت سے ملزمین کو سزاء دے رہا ہے۔ یہاں تک کہ پولیس کو بھی اس کی اطلاع نہیں دی جاتی اور قانون اپنے ہاتھوں میں لایا جاتا ہے۔ درخواست گذار نے اپنی درخواست میں اس کا انکشاف کیا۔ تشدد میں اضافہ کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست گذار نے کہا کہ گائے کی نگرانی کرنے والے گروپس کا ادعا ہیکہ وہ بڑے مویشیوں کا تحفظ کررہے ہیں۔ کئی بے قصور مسلمانوں اور دلتوں کی صرف بڑے مویشیوں کی تجارت اور ذبیحہ گاؤ کے شبہ میں ہلاکتیں ہوچکی ہوں۔درخواست گذار نے سپٹمبر 2015 ء کے واقعہ کا حوالہ دیا جس میں زرعی مزدور محمد اخلاق اور اس کے فرزند دانش کو مردوں کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر بڑا گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کے الزام میں زدوکوب کیا تھا ۔ عدالت نے ابتدائی مباحث کی سماعت کے بعد مرکز ، قومی انسانی حقوق کمیشن اور 11 ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کردی ۔ درخواست گزار نے عدالت سے ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی گزارش کی تھی کہ وہ موقف کی رپورٹ ان کے علاقہ میں ہجومی تشدد کے واقعات اور کارروائی کی رپورٹ ہدایات کے بارے میں اور سپریم کورٹ کے معینہ رہنمایانہ خطوط کے بارے میں پیش کریں تاکہ ہجومی تشدد کے واقعات کا اعادہ نہ ہونے پائے ۔